بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے پاکستان کے آبی تحفظ پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر تشویش

آبی ماہرین و حکومتی شخصیات نے کہا ہے کہ چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے سندھ طاس معاہدہ (آئی ڈبلیو ٹی ) پاکستان کے آبی تحفظ کی بنیاد رہا ہے جس نے دریائے سندھ کے آبی نظام کی ترقی، زرعی پیداوار، پن بجلی کی پیداوار اور ملکی معاشی ترقی کے لئے پانی کی مسلسل اور قابلِ اعتماد فراہمی کو یقینی بنایا

اسلام آباد۔6جولائی (اے پی پی):آبی ماہرین و حکومتی شخصیات نے کہا ہے کہ چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے سندھ طاس معاہدہ (آئی ڈبلیو ٹی ) پاکستان کے آبی تحفظ کی بنیاد رہا ہے جس نے دریائے سندھ کے آبی نظام کی ترقی، زرعی پیداوار، پن بجلی کی پیداوار اور ملکی معاشی ترقی کے لئے پانی کی مسلسل اور قابلِ اعتماد فراہمی کو یقینی بنایا، یہ معاہدہ دنیا کے سب سے پائیدار بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے اور جنوبی ایشیا میں علاقائی استحکام برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا رہا ہے، مئی 2025 میں بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے، ہائیڈرولوجیکل (آبی بہاؤ سے متعلق) ڈیٹا کی فراہمی روکنے اور بالائی علاقوں میں آبی ڈھانچے کی تعمیر تیز کرنے کے فیصلے نے پاکستان کے آبی انتظامی نظام میں شدید غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، قانونی اور سفارتی پہلوؤں سے ہٹ کر خصوصاً دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ کے وقت اور مقدار پر اثر انداز ہونے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت پاکستان کے پانی، خوراک، توانائی اور معیشت کے لئے ایک سنگین چیلنج بن رہی ہے۔واپڈا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے کہا کہ پاکستان کا پن بجلی کا نظام، نہری زراعت اور مجموعی معاشی ترقی مغربی دریاؤں سے آنے والے مسلسل اور قابلِ پیش گوئی پانی کے بہاؤ پر استوار ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے نے جنوبی ایشیا میں تذویراتی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیرِ انتظام منعقدہ حالیہ واٹر کنونشن میں ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ مشترکہ دریائی نظاموں کے انتظام اور شفافیت کو ’’ون واٹر، ون وژن‘‘ کے اصول کے تحت مزید مضبوط بنائیں جبکہ بھارت اس کے برعکس سمت میں جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ قانونی بحث سے قطع نظر بھارت کا یہ اقدام پاکستان کے لئے نہایت سنگین تذویراتی نتائج کا حامل ہے کیونکہ اس سے چھ دہائیوں پر محیط معاہداتی تعاون کا سلسلہ متاثر ہوا ہے اور ایسے دریائی نظام میں غیر یقینی پیدا ہوئی ہے جو پاکستان کے پانی، خوراک اور توانائی کے تحفظ کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔چیئرمین واپڈا نے بتایا کہ مئی 2025 سے بھارت نے مغربی دریاؤں پر بالائی علاقوں میں مختلف منصوبوں کی تعمیر میں تیزی لائی ہے اور رنبیر کینال کی توسیع اور چناب-بیاس لنک ٹنل سمیت نئے منصوبوں کے لئے بھی ٹینڈرز جاری کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر یہ پیشرفت پاکستان کے طویل المدتی آبی تحفظ کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے انڈس واٹرز کمشنر کو مغربی دریاؤں سے متعلق ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا فراہم کرنا بھی بند کر دیا حالانکہ یہ معاہدے کی واضح ذمہ داری ہے، 2025 کے سیلابی موسم میں بروقت معلومات نہ ملنے سے پاکستان کی سیلابی پیش گوئی اور ہنگامی تیاری متاثر ہوئی جس سے انسانی جانوں، اہم انفراسٹرکچر اور لوگوں کے روزگار کو خطرات لاحق ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات انسانی اصولوں اور بین الاقوامی آبی تعاون کے منافی ہیں اور سرحد پار سیلابی خطرات سے آبادیوں کے تحفظ کے بنیادی مقصد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ مزید یہ کہ بھارت کے اقدامات پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز ) خصوصاً 6.5، 6.5.1 اور 6.5.2 کے حصول میں بھی رکاوٹ بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیریں کنارے کے ملک کی حیثیت سے پاکستان کا آبپاشی نظام، آبی ذخائر، زراعت، بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتی ترقی بالائی علاقوں سے آنے والے پانی کے مسلسل اور قابلِ اعتماد بہاؤ پر منحصر ہے، پانی کی مقدار یا وقت میں کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال قومی آبی، غذائی، توانائی، ماحولیاتی اور معاشی سلامتی کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے کہا کہ دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ کی پیش گوئی اور تسلسل دریائے سندھ کے آبپاشی نظام کے محفوظ اور مؤثر آپریشن کے لئے ناگزیر ہے، بالائی علاقوں سے آبی معلومات نہ ملنے کی صورت میں نہروں کی تقسیم، سیلابی انتظام اور بروقت وارننگ جاری کرنے کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے جبکہ شدید موسمی حالات میں اس سے انسانی جانوں، انفراسٹرکچر اور معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل چیلنج متعدد بالائی منصوبوں کے ذریعے پاکستان آنے والے پانی کی مقدار، وقت اور تسلسل کو کنٹرول کرنے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت ہے، دریائے چناب سے مرالہ کے مقام پر سالانہ اوسطاً 2 کروڑ 50 لاکھ ایکڑ فٹ (25 MAF) پانی گزرتا ہے جس سے تقریباً ایک کروڑ ایکڑ زرعی رقبہ سیراب ہوتا ہے، یہ علاقے پاکستان میں گندم، چاول، گنا اور دیگر اہم فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں اور لاکھوں دیہی افراد کا ذریعہ معاش ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی پر پاکستان کا حق ناقابلِ تنسیخ ہے اور یہ ملک کی زندگی کی علامت ہے جس کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش نہ قانونی حیثیت رکھتی ہے اور نہ ہی اخلاقی جواز بلکہ اس اقدام سے بھارت کو صرف عالمی سطح پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ’’ون واٹر، ون وژن‘‘ اصول کی بھی خلاف ورزی ہے۔وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پانی قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، سندھ طاس معاہدے سے متعلق موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری، شفافیت اور یکطرفہ اقدامات کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے جائز آبی حقوق کے تحفظ اور اس اہم قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام کے لئے پرعزم ہے۔سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ دریائے چناب کی تزویراتی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کیونکہ اس کا زیادہ تر کیچمنٹ ایریا بھارت میں واقع ہے، پاکستان کے پاس متبادل ذرائع محدود ہیں، اس لئے چناب کے پانی کا مسلسل اور قابلِ پیش گوئی بہاؤ سندھ طاس آبپاشی نظام کے استحکام کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ رکن پنجاب اسمبلی فرح خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ موجود ہونے کے باوجود بھارت لاکھوں انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، پانی جیسے بنیادی انسانی وسیلے کو بھی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا انسانیت اور بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی کوئی ہتھیار نہیں بلکہ مشترکہ زندگی کی علامت ہے، سندھ طاس معاہدہ کئی دہائیوں سے غذائی تحفظ، روزگار اور علاقائی استحکام کا ضامن رہا ہے مگر بھارت مسلسل معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کی شقوں کو معطل، اہم آبی معلومات روکنے اور دریاؤں کے قدرتی بہاؤ میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔جنوبی ایشیا کے امور کے ماہر مائیکل کوگیل مین نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی پانی کی شدید قلت کا شکار ملک ہے اور دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، جو بھارت سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس تک سندھ طاس معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کا نظام نہایت مؤثر ثابت ہوتا رہا اور دونوں ممالک معاہدے میں موجود طریقہ کار کے ذریعے اختلافات کو پرامن انداز میں حل کرتے رہے۔ان کے مطابق اس معاہدے کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس پر عالمی بینک بھی دستخط کنندہ ہے، جس سے اسے بین الاقوامی سطح پر مضبوط قانونی حیثیت حاصل ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ آیا عالمی برادری اور عالمی بینک موجودہ صورتحال کے حل میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ معاہدے کا بنیادی اصول یہی ہے کہ کوئی بھی ملک اسے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔

اگر کسی فریق کو اعتراض ہو تو اسے معاہدے میں موجود مذاکراتی اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار کے ذریعے مسئلہ حل کرنا چاہئے۔ماسکو میں یو ڈبلیو سی کے سائنٹیفک سینٹر فار انٹرنیشنل اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز کی سربراہ ڈاکٹر روکسلانا زیگون نے کہا کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ آج بھی مکمل طور پر مؤثر اور قانونی طور پر نافذ العمل ہے۔ ان کے مطابق اگر معاہدے کی یکطرفہ معطلی جاری رہی تو اس کے پاکستان اور بھارت ہی نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کی سلامتی اور انسانی صورتحال پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو دنیا میں مشترکہ آبی وسائل کے پرامن انتظام کی ایک کامیاب اور پائیدار مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آج بھی عالمی سطح پر ایک قابلِ تقلید ماڈل ہے۔قومی امور پر نظر رکھنے والے صحافی نظر الاسلام نے کہا کہ قانونی پہلوؤں سے ہٹ کر سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر پانی کی غیر یقینی صورتحال مستقبل میں غذائی پیداوار اور توانائی کے تحفظ کے لئے مزید خطرات پیدا کر سکتی ہے۔بین الاقوامی ایسوسی ایشن برائے واٹر لا کے صدر اور قانون کے پروفیسر گیبریل ایکسٹین نے بھی ایکس پر اپنے بیان میں پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کی اہمیت کو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔

 

مزید خبریں