ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج و سپیشل جج ایف آئی اے گلگت امیر حمزہ نے نیشنل بینک میں مبینہ مالی خردبرد اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے سے متعلق اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم عبدالغفار کو عمر قید کی سزا سمیت ملزم کو ایک کروڑ اکہتر لاکھ (1,71,00,000) روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکم جاری کیا
نیشنل بینک کرپشن کیس میں مرکزی ملزم کو عمر قید سمیت مبلغ 1 کروڑ 71 لاکھ جرمانہ عائد

مزید خبریں
گلگت۔ 06 جولائی (اے پی پی):ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج و سپیشل جج ایف آئی اے گلگت امیر حمزہ نے نیشنل بینک میں مبینہ مالی خردبرد اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے سے متعلق اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم عبدالغفار کو عمر قید کی سزا سمیت ملزم کو ایک کروڑ اکہتر لاکھ (1,71,00,000) روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکم جاری کیا۔ معزز عدالت نے فریقین کے دلائل، استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد، دستاویزی ریکارڈ، گواہوں کے بیانات اور مقدمے کے مجموعی حقائق کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیصلہ سنایا۔ استغاثہ کے مطابق ملزمان پر نیشنل بینک کے تقریباً دو کروڑ ستر لاکھ (2,70,00,000) روپے میں خوردبرد، بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات ثابت ہوئے۔
عدالتی کارروائی کے دوران فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کی جانب سے اسٹیٹ کونسل نے مقدمے کی مؤثر پیروی کی اور شواہد کی بنیاد پر عدالت کو مطمئن کیا جبکہ نیشنل بینک کی جانب سے سینئر وکیل عمر قاسم اور ریڈکولیٹ نے عدالتی معاونت فراہم کی۔عدالت نے قرار دیا کہ مالیاتی اداروں میں بدعنوانی، عوامی اعتماد اور قومی خزانے کے تحفظ کے خلاف سنگین جرم ہے لہٰذا ایسے جرائم میں قانون کے مطابق سخت سزا ناگزیر ہے تاکہ بدعنوانی کی حوصلہ شکنی ہو اور احتساب کا عمل مؤثر بنایا جا سکے۔عدالت نے مقدمے کی تمام کارروائی مکمل ہونے کے بعد آج اپنا محفوظ شدہ فیصلہ سنایا، جس کے تحت مرکزی ملزم کو عمر قید جبکہ شریک ملزم پر بھاری مالی جرمانہ عائد کیا گیا۔
یہ فیصلہ مالیاتی جرائم، بدعنوانی اور قومی وسائل کے تحفظ سے متعلق مقدمات میں ایک اہم عدالتی نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ عدالتیں مالی بدعنوانی کے مرتکب افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔








