وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے ویژن کے تحت پاکستان ریلوے کو منافع بخش ادارہ بنانے کیلئے دن رات کوشاں ہیں،ملکی تاریخ میں پہلی بار سال 2025-26 میں ریلوے نے 115 ارب روپے ریونیو پیدا کیا،کرپشن کا خاتمہ اولین ترجیح ہے
وزیراعظم شہباز شریف کے ویژن کے تحت پاکستان ریلوے کو منافع بخش ادارہ بنانے کیلئے کوشاں ہیں،ملکی تاریخ میں پہلی بار ریلوے نے 115 ارب روپے ریونیو کمایا،حنیف عباسی

مزید خبریں
لاہور۔6جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے ویژن کے تحت پاکستان ریلوے کو منافع بخش ادارہ بنانے کیلئے دن رات کوشاں ہیں،ملکی تاریخ میں پہلی بار سال 2025-26 میں ریلوے نے 115 ارب روپے ریونیو پیدا کیا،کرپشن کا خاتمہ اولین ترجیح ہے،ڈیجیٹائز یشن کا عمل کامیابی سے جاری ہے،حادثات سے بچائو کیلئے بوسیدہ عمارات کو بحال کیا جا رہا ہے،پاور پلانٹس کی کمی پوری کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں،پاکستان ریلویز نے چاروں صوبوں کو آپس میں جوڑا ہوا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کے روز ریلویز ہیڈ کوارٹرز میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر چیف ایکزیکٹیو آفیسر ریلوے حفیظ اللہ، ایڈیشنل جنرل منیجر مکینیکل محمد یوسف، ایڈیشنل جنرل منیجر ٹریفک سفیان سرفراز ڈوگر، ایڈیشنل جنرل منیجر انفراسٹرکچر حماد حسن مرزا اور دیگر بھی موجود تھے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت اور ان کے ویژن کے تحت پاکستان ریلوے کو منافع بخش ادارہ بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں،پاکستان ریلوے نے 78سال میں پہلی بار 115ارب روپے کمائے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ریلوے نے مسافر ٹرینوں میں ساڑھے50 ارب روپے،فریٹ سے41 ارب روپے، پراپرٹی اینڈ لینڈ سے12 ارب روپے،کمرشل سے 2 ارب روپے اور سکریپ سے2 ارب روپے کمائے ہیں،ریلوے فریٹ میں گروتھ 27.78 فیصد ،مسافر ٹرینوں میں پچھلے سال کے مقابلہ میں 48 کے بجائے 51ارب روپے کمائے ہیں
گڈ گورننس کی بدولت ریلوے انکم میں بتدریج اضافہ واقع ہوا ہے،سال 2023-24 میں88 ارب، سال2024-25 میں92 ارب اور اب سال 2025-26 میں 115 ارب روپے آمدنی حاصل ہوئی ہے،اس سنگ میل کو حاصل کرنے کے پیچھے تمام ریلوے ملازمین اور آفیسرز کی دن رات کی محنت شامل ہے،جس پر میں ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،اس سال فریٹ ٹرینوں سے65 ارب روپے اور پسنجر ٹرینوں سے 60 ارب روپے ریونیو پیدا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے جس کو حاصل کر لیں گے۔حنیف عباسی نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے اور ریلوے کو تجارتی نقل و حمل کے لیے ایک تیز، قابلِ اعتماد اور سستا ذریعہ بنانے پر توجہ مرکوز ہے،ہمارا بنیادی ہدف ادارہ جاتی خسارے کو کم کرنا اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے ذریعے نظام کو بہتر بنانا ہے،ڈیجیٹائز یشن کا پہلا فیز رواں سال30 جون کو مکمل کر لیا گیا ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر ڈیجیٹائز یشن کا دوسرا فیز31 دسمبر تک مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے میں میرٹ کی بنیاد پر ٹھیکے دیئے جا رہے ہیں، جس کے لیے اوپن آکشن ہوتی ہے،کسی من پسند لوگوں کو ٹھیکہ نہیں دیا گیا،بادامی باغ آکشن میں 52ملین روپے کے بجائے450 ملین روپے کمائے،میرا سیلون پہلے ٹیکسی کی طرح استعمال ہوتا رہا اس سے دستبردار ہو گیا ہوں، صرف ایک بار ہی استعمال کیا،ریلوے کی ایک فری ٹکٹ گھر کے ملازم کو بھی نہیں دی،اب صرف میرٹ کی بنیاد پر ہی کام ہوں گے۔
حنیف عباسی نے کہا کہ پچھلے 9 ماہ سے لوکوموٹیو کی مینٹیننس نہیں کی گئی، پاور پلانٹس کی بھی کمی ہے،پاور پلانٹس بہتر کر رہے ہیں، 30 ستمبر تک یہ ایشو حل کر لیں گے،16 پاور پلانٹ ریونیو سے خریدیں گے،جس کے لیے ٹینڈر کر دیا گیا ہے، 80پاور پلانٹ23 مارچ تک ریلوے میں آ جائیں گے،لوکو موٹیو کو اوور ہالنگ کروایا جا رہا ہے،نئے پاور پلانٹس کا ڈیٹا بھی جمع کررہے ہیں۔حنیف عباسی نے کہا کہ پرائیویٹ کی گئی5 ٹرینوں سے3 ارب روپے کا ریونیو کمایا ہے،باقی ٹرینیں بھی پرائیویٹائز کررہے ہیں،عوام ایکسپریس کے3 ریک آ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون ٹو تھری ریلوے کی بحالی کے لیے ناگزیر ہے،ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے بات چیت کررہے ہیں، روہڑی جنکشن کو نئے سرے سے بنانے جا رہے ہیں،ایم ایل ون کا وزیر اعظم سے جلد افتتاح کروائیں گے، اس منصوبہ کی تکمیل سے روہڑی سے کراچی کے سفر میں 5 گھنٹے کی کمی واقع ہو گی، ان منصوبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرز کو شامل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے نے چاروں صوبوں کو جوڑا ہوا ہے ، بلا تفریق تمام صوبوں میں ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا، صوبوں میں پہلی بار 8برانچ روٹ بنانے جا رہے ہیں،اورنج ٹرین دیہاتوں سے بھی گزریں گی،پیپلز ٹرین کیلئے بلوچستان حکومت نے فنڈز دیئے ہیں، سندھ میں بھی2 روٹس پر کام کرنے کے لیے ایم او یو پر دستخط ہونے جا رہے ہیں- انہوں نے کہا کہ ریلوے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں ،ریلوے جی پی فنڈز پچاس کروڑ روپے کی ادائیگی ہو گئی ہے
وفاقی حکومت63 ارب روپے پنشن کیلئے دیتی ہے،جس کو ملازمین پر خرچ کر دیا جاتا ہے،ملازمین کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے،راولپنڈی میں گارڈ روم ریسٹ ایریا خوبصورت بنایا ہے،خانیوال کوٹری روہڑی لاہور پشاور میں بھی اسٹیٹ آف دی آرٹ گارڈ روم بنائیں گے۔حنیف عباسی نے کہا کہ کاہنہ جیسے واقعات کا انتطار نہیں کریں گے،بوسیدہ کوارٹرز کو نیا بنانے جا رہے ہیں، اسی طرح ریلوے کے سکولوں میں بہترین تعلیم دی جا رہی ہے،ریلوے کے ہسپتالوں کو پرائیویٹائز کر رہے ہیں تاکہ ملازمین کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے ۔








