نئے مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں کو ٹائم لائن کے مطابق شفافیت کے ساتھ تکمیل تک پہنچانا اولین ترجیح ہے ،سیکرٹری مواصلات

سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بلوچستان بابر خان نے کہا کہ وہ مالی سال 2026 ۔27 کے تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ ٹائم لائن کے مطابق مکمل شفافیت، مالی نظم و ضبط اور حکومتی پالیسی کے تحت بروقت مکمل کرنا محکمہ کی اولین ترجیح ہے تاکہ صوبے کے عوام کو بروقت اور معیاری سہولیات فراہم کیے جائیں

کوئٹہ۔ 06 جولائی (اے پی پی):سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بلوچستان بابر خان نے کہا کہ وہ مالی سال 2026 ۔27 کے تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ ٹائم لائن کے مطابق مکمل شفافیت، مالی نظم و ضبط اور حکومتی پالیسی کے تحت بروقت مکمل کرنا محکمہ کی اولین ترجیح ہے تاکہ صوبے کے عوام کو بروقت اور معیاری سہولیات فراہم کیے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو محکمہ مواصلات و تعمیرات کے مالی سال 2025-26 کے سالانہ کارکردگی رپورٹ کے حوالے سے منعقدہ جائزہ اجلاس اور مالی سال 2026 27 کے حوالے سے بہتر منصوبہ بندی سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری مواصلات و تعمیرات عباس کھوسہ، ڈپٹی سیکریٹری زاہد شاہوانی اور ٹیکنکل ایڈوائزر احسان اللہ خان دوتانی کے علاہ دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ اجلاس کو مالی سال 2025-26 کے مجموعی کارکردگی کی جس میں گزشتہ سال کی کارکردگی جاری ترقیاتی منصوبوں نئے مالی سال کی حکمت عملی، مالی نظم و ضبط ،ٹینڈرنگ پی سی ون ،ڈی ایس سی ڈی اے سی اور بھرتیوں کے امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مالی سال 2026-27 کے حوالے سے اپنے ٹاسکس پر روشنی ڈالی۔

اس موقع پر سیکریٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے کہا کہ صوبے کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریگی اور صوبے کے انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہے گی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے ہدایات دیں کہ 30 جون تک مکمل قرار دیے گئے تمام منصوبے عملی طور پر بھی سو فیصد مکمل ہوں اور معمولی باقی ماندہ کام بھی فوری مکمل کیے جائیں ۔ انہوں نے منصوبوں میں مالی مطابقت رکھنے ایڈوانس ادائیگیوں سے سختی سے منع کیا اور غیر استعمال شدہ فنڈز بروقت سرنڈر کرنے پر بھی زور دیا ۔سیکرٹری مواصلات و تعمیرات نے نئے مالی سال کے آغاز پر تمام پی سی ون جلد از جلد تیار کرنے، ڈی اے سی اور ڈی ایس سی باقاعدگی سے منعقد کرنے اور 15 جولائی تک تمام ڈی ایس سی منظوریوں اور 31 جولائی تک ٹینڈرنگ منٹس اور دیگر منظوریوں کی تکمیل کا بھی ہدایات دیں۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ ترقیاتی فنڈز صرف قواعد و ضوابط کے مطابق جاری کیے جائیں گے جبکہ اے ون روڈز سمیت اہم منصوبوں کے لیے فنڈز اجتماعی منظوری کے بعد ہی جاری ہونگے ۔