وفاقی وزیرِ خزانہ کا چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو مالی تعاون فراہم کرنے کےلئے ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان

وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو مالی تعاون فراہم کرنے کےلئے ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں اضافے کے لیے پورے بینکاری شعبے کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے

اسلام آباد۔7جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو مالی تعاون فراہم کرنے کےلئے ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں اضافے کے لیے پورے بینکاری شعبے کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے، حکومت مالیاتی شعبے میں اصلاحات اور پائیدار معاشی ترقی کے وسیع تر ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کو کراچی میں منعقدہ پاکستان بینکنگ سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ ٹاسک فورس سٹیٹ بینک کی سربراہی میں کام کرے گی جس میں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن ، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا)، ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ نمائندے شامل ہوں گے،اس کا مقصد ایس ایم ایز کے لیے مالی معاونت کو بہتر بنانے اور بینکاری شعبے میں قرضوں تک رسائی کو مزید وسعت دینے کے لیے قابلِ عمل سفارشات مرتب کرنا ہوگا۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کے حصول کے لیے بینکاری شعبے کا کردار نہایت اہم ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، برآمدات، زراعت، صنعت، تعمیرات، ہاؤسنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایس ایم ایز کو مالی سہولیات کی فراہمی صرف چند اداروں کی نہیں بلکہ پورے بینکاری شعبے کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہونی چاہیے، مالی سال27-2026 کے وفاقی بجٹ میں ان شعبوں کے لیے ضروری مالی وسائل پہلے ہی مختص کیے جا چکے ہیں۔

وزیرِ خزانہ نے پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ مالی سال مضبوط بنیادوں پر اختتام پذیر ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ بنیادی مالیاتی سرپلس، حالیہ برسوں کا کم ترین مالیاتی خسارہ، قرضوں کے بہتر اشاریے، حسابات جاریہ کے کھاتوں کی مستحکم کارکردگی، ترسیلاتِ زر کی ریکارڈ آمد، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور پاکستان کی بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی( جن میں ملک کا پہلا پانڈا بانڈ بھی شامل ہے)اس مثبت پیش رفت کے نمایاں عوامل ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت معاشی استحکام کو برآمدات پر مبنی پائیدار اقتصادی ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور پالیسیوں کے تسلسل پر پوری طرح کاربند ہے۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں ٹیکس اور مالیاتی شعبے سے متعلق متعدد اہم اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ ملکی مسابقت میں اضافہ ہو، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو، برآمد کنندگان، زرعی اور صنعتی شعبوں کو سہولت ملے اور تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ حکومت کاروباری برادری کو زیادہ یقین دہانی اور پالیسیوں میں پیش بینی فراہم کرنے کے لیے درمیانی مدت کی ٹیکس حکمتِ عملی متعارف کرائے گی۔وزیرِ خزانہ نے ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے حکومت کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی نیا انتظامی نظام متعارف کرایا جا رہا ہے جس کا مقصد انسانی مداخلت کو کم سے کم کرنا، شفافیت کو فروغ دینا اور ٹیکس دہندگان اور ٹیکس انتظامیہ کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

وزیر خزانہ نے بالخصوص ایس ایم ایز اور چھوٹے کسانوں کے لیے رسک شیئرنگ اور جزوی کریڈٹ گارنٹی سکیموں کو مزید وسعت دینے اور برآمدات پر مبنی شعبوں کے لیے ہدفی مالی معاونت جاری رکھنے کے حکومتی عزم کااعادہ کیا اور کہا کہ حکومت قرضہ دینے کو صرف بینکاری شعبے تک محدود رکھنے کے بجائے غیر بینکاری ذرائع سے بھی فروغ دینے اور مقامی قرضہ جاتی سرمایہ منڈیوں کو مزید مستحکم کرنے کےلئے کوششیں کرے گی تاکہ نجی شعبے کے لیے قرضوں کی فراہمی کے امکانات میں اضافہ ہو۔ انہوں نے مالیاتی شعبے میں حکومت کے وسیع تر اصلاحات کے پروگرام پر روشنی ڈالتے ہوئے نجکاری، موسمیاتی مالیات، ڈیجیٹل اثاثوں اور مالیاتی جدت کو بھی اہم ترجیحات قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں نافذ کیے گئے ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے ذریعے ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ایک جدید اور مؤثر ریگولیٹری فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت خودمختار قرضوں کی ٹوکنائزیشن سمیت جدید مالیاتی ذرائع پر بھی سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، اس کے ساتھ انہوں نے پاکستان کے ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے تحفظ کے لیے سائبر سکیورٹی اور سائبر لچک کو قومی سطح کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیا۔وفاقی وزیرِ خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بینکاری شعبے اور تمام متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گی تاکہ ایک جدید، جامع اور مضبوط مالیاتی نظام تشکیل دیا جا سکے جو سرمایہ کاری، جدت، کاروباری سرگرمیوں اور پائیدار معاشی ترقی کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرے

مزید خبریں