بینکاری تنازعات کے فوری اور موثر حل کے لیے ادارہ جاتی تعاون ناگزیر ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے بینکنگ محتسب پاکستان سراج الدین عزیز نے سپریم کورٹ میں ملاقات کی

اسلام آباد۔7جولائی (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے بینکنگ محتسب پاکستان سراج الدین عزیز نے سپریم کورٹ میں ملاقات کی جس میں بینکاری تنازعات کے موثر اور تیز رفتار حل، جاری اصلاحاتی اقدامات اور انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید بہتر بنانے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران حال ہی میں چیف جسٹس پاکستان کی زیر صدارت بطور چیئرمین لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان ہونے والے اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس کے تناظر میں بینکاری مقدمات کے نظام کو موثر بنانے، قانون سازی اور طریقہ کار میں اصلاحات نیز متبادل تنازعاتی حل (اے ڈی آر) کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی۔بینکنگ محتسب سراج الدین عزیز نے چیف جسٹس کو ادارے کی سال 2025 کی کارکردگی سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ادارے نے سال کے دوران 36 ہزار 280 شکایات نمٹا دیں۔ انہوں نے بتایا کہ سال کے آغاز پر 13 ہزار 793 شکایات زیر التواء تھیں جبکہ 35 ہزار 130 نئی شکایات موصول ہوئیں، اس کے باوجود مجموعی زیر التواء مقدمات میں 8 فیصد کمی لائی گئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ بینکنگ محتسب نے سال 2025 کے دوران بینکاری صارفین کو ایک ارب 87 کروڑ روپے سے زائد کا ریلیف فراہم کیا جبکہ شکایات کے ازالے کا پورا نظام شہریوں کے لیے مکمل طور پر مفت ہے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے بینکنگ محتسب کی جانب سے بڑی تعداد میں شکایات کے بروقت فیصلے اور بینکاری صارفین کو نمایاں مالی ریلیف فراہم کرنے کی کاوشوں کو سراہا۔سراج الدین عزیز نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بینکنگ محتسب ادارہ بینکاری تنازعات کے موثر حل، ادارہ جاتی تعاون کے فروغ اور بہترین طریقہ کار کے تبادلے کے ذریعے عدالتی و قانونی اصلاحات میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔ملاقات کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بینکاری تنازعات کے حل کے لیے شفاف، موثر اور شہری دوست نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور انصاف کے شعبے میں وسیع تر اصلاحات کے لیے اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔