سعودی کابینہ کا اجلاس، عالمی امن و سلامتی اور بین الاقوامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

سعودی عرب کی کابینہ نے عالمی امن و سلامتی کے فروغ، بین الاقوامی چیلنجز سے نمٹنے اور ترقی و خوشحالی کے مواقع بڑھانے کے لیے مشترکہ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ایس پی اے کے مطابق کابینہ کا اجلاس ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت جدہ میں ہوا جس میں علاقائی و بین الاقوامی تعاون، انسداد دہشتگردی، سائبر سکیورٹی سمیت متعدد …

ریاض۔8جولائی (اے پی پی):سعودی عرب کی کابینہ نے عالمی امن و سلامتی کے فروغ، بین الاقوامی چیلنجز سے نمٹنے اور ترقی و خوشحالی کے مواقع بڑھانے کے لیے مشترکہ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ایس پی اے کے مطابق کابینہ کا اجلاس ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت جدہ میں ہوا جس میں علاقائی و بین الاقوامی تعاون، انسداد دہشتگردی، سائبر سکیورٹی سمیت متعدد امور کا جائزہ لیا گیا۔ایس پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے بتایا کابینہ اجلاس میں گزشتہ دنوں برادر اور دوست ممالک کے ساتھ رابطے، تعلقات کو مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔اراکین نے اقوام متحدہ کے انسداد دہشتگردی ویک میں سعودی وفد کی موثر شرکت کو سراہا، دہشت گردی کے خاتمے، اس کی مالی معاونت کو روکنے اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔اجلاس میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 62 ویں اجلاس میں سائبرسکیورٹی کے شعبے میں خواتین کو با اختیار بنانے سے متعلق سعودی عرب کی قرارداد کی متفقہ منظوری کا خیر مقدم کیا گیا۔کابینہ کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو)کے آئی سی ٹی ڈویلپمنٹ انڈیکس 2026 میں مملکت کی عالمی سطح پر پہلی پوزیشن کے جدید ڈیجیٹل انفرا سٹرکچر، موثر ضابطہ اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مسلسل پیش رفت کا ثبوت ہے۔ کابینہ نے مملکت میں تعلیمی شعبے میں مصنوعی ذہانت کو شامل کیے جانے کے اقدام کو عالمی بینک کی جانب سے مثالی ماڈل قررا دیے جانے کو بھی سراہا۔اجلاس میں کہا گیا کہ عالمی بینک کی جانب سے یہ اعتراف ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور تعلیمی اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کی حکومتی پالیسیوں کی کامیابی کا عکاس ہے۔مقامی امور کے حوالے سے کابینہ نے اہم شعبوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور غیرمنافع بخش شعبے کی ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اجلاس میں اراکین کو بتایا گیا کہ سال 2025 کے اختتام تک مملکت میں غیرمنافع بخش تنظیموں کی تعداد 7 ہزار 200 سے تجاوز کر گئی جبکہ رضاکاروں کی تعداد 17 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ اجلاس میں ایجنڈے میں شامل مختلف امور پر بھی غور کیا گیا اور شوریٰ کونسل، سیاسی و سلامتی امور کی کونسل، اقتصادی ترقیاتی امور کی کونسل، کابینہ کی جنرل کمیٹی اور ماہرین کے ادارے کی سفارشات پر متعدد فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ وزارت خارجہ میں ایک نیشنل یونیفائیڈ ویزہ پلیٹ فارم کی بھی منظوری دی گئی ،اس کے علاوہ ہنگری، قازقستان اور پولینڈ کے ساتھ سفارتی سروس اور خصوصی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزے سے استثنیٰ کے معاہدوں کی توثیق بھی کی گئی۔