نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک پالیسی (این آئی پی پی) کے زیر اہتمام معروف مصنفہ ڈاکٹر عائشہ جلال کی کتاب ’’مسلم روشن خیال فکر: جنوبی ایشیا کے تناظر میں‘‘ کی تقریب رونمائی این آئی پی پی آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی
این آئی پی پی کے زیر اہتمام مصنفہ عائشہ جلال کی کتاب کی تقریب رونمائی

مزید خبریں
لاہور۔8جولائی (اے پی پی):نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک پالیسی (این آئی پی پی) کے زیر اہتمام معروف مصنفہ ڈاکٹر عائشہ جلال کی کتاب ’’مسلم روشن خیال فکر: جنوبی ایشیا کے تناظر میں‘‘ کی تقریب رونمائی این آئی پی پی آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔بدھ کو منعقدہ تقریب میں ڈین انسٹیٹیوٹ آف پبلک پالیسی ڈاکٹر نوید الہی ،ریکٹر این آئی ایس پی پی فرحان عزیز خواجہ، نیشنل مینجمنٹ کورسز کے افسران،سول سروس اکیڈمی کے افسران طلبہ اور دیگر کی کثیر تعداد موجود تھی-افتتاحی خطاب میں ریکٹر این آئی پی پی ڈاکٹر اعجاز منیر نے قومی ترقی میں نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی (این ایس پی پی) کے دیرینہ کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ادارے نے پالیسی تحقیق و تجزیہ، اسٹریٹجک سوچ اور جدید طرزِ حکمرانی جیسے شعبوں میں ہزاروں سول سرونٹس کو تربیت فراہم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایس پی پی سے تربیت یافتہ افسران اس وقت قومی اور بین الاقوامی سطح پر اہم ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ڈاکٹر اعجاز منیر نے کتاب کی مصنفہ عائشہ جلال کا تعارف کرواتے ہوئے مصنفہ کی محنت، لگن اور عزم کو سراہا اور کہا کہ یہ کتاب ایک اہم تاریخی دستاویز ہے، جس میں مستند حوالہ جات کے ذریعے جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی تاریخ کو جامع انداز میں قلم بند کیا گیا ہے۔ ریکٹر این آئی ایس پی پی فرحان عزیز خواجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ این آئی پی پی ملک کو درپیش کثیر الجہتی مسائل کے حل اور جدید کارپوریٹ گورننس کے فروغ کیلئے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تقریبات منعقد کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سول سرونٹس کی تربیت کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے تاکہ سرکاری افسران عوامی خدمت اور گڈ گورننس کے تقاضوں کوموثر طریقے سے پورا کر سکیں۔اس موقع پر کتاب کی مصنفہ ڈاکٹر عائشہ جلال نے اپنی کتاب کے خندوخال پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ کتاب کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ نوآبادیاتی دور میں برطانوی راج کی پالیسیوں کے زیرِ اثر مذہب کو ذاتی عقیدے و ایمان کی بجائے سیاسی شناخت سے جوڑ دیا گیا، نوآبادیاتی دور کے دوران جدیدیت اور اصلاحات کے حوالے سے مسلم فکری ردعمل کا جائزہ لیتی ہے کہ کس طرح مسلمانوں نے جدید مغربی دنیا کا سامنا کرتے ہوئے اپنی فکری اور تہذیبی شناخت کو برقرار رکھا۔ مصنفہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ روشن خیال مسلم مفکرین مذہب کو بطورِ ایمان اور روحانیت کے زیادہ قریب سمجھتے تھے۔کتاب میں اس فرسودہ بیانیے کو بھی چیلنج کیا گیا ہے کہ برصغیر کے مسلم مفکرین قدامت پسند اور دفاعی تھے، بلکہ یہ ان کے روشن خیالی، آزادی، اور وسعتِ نظری پر مبنی افکار کو نمایاں کرتی ہے، کتاب میں شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال، جلال الدین رومی، غالب سمیت دیگر مسلم شعرا اور مفکرین کی فکری خدمات کو اجاگر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کتاب میں جنوبی ایشیا کے مسلم مفکرین، شعرا اور دانشوروں کے روشن خیال نظریات ، فکری خدمات کا ایک جامع اور تاریخ ساز جائزہ لیا گیا ہے، یہ کتاب جنوبی ایشیا میں اسلام اور جدیدیت کی کشمکش اور فکری ارتقا کو سمجھنے کے لیے ایک بنیادی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔تقریب کے آخر میں ڈین نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک پالیسی ڈاکٹر نوید الہی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسی تقریبات آئندہ بھی جاری رہیں گے تاکہ طلبہ و محققین کو معیاری فکری و علمی مواد سے روشناس کرایا جا سکے۔ تقریب میں سوال وجواب کا سیشن منعقد ہوا ، جس میں شرکا کے سوالات کا جواب دیا گیا ۔تقریب کے آخر میں ریکٹر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک پالیسی فرحان عزیز خواجہ نے معروف مصنفہ عائشہ جلال کو شیلڈ پیش کی اور گروپ فوٹو بھی ہوا۔اس موقع پر کتابوں کے سٹالز بھی لگائے گئے شرکا نے دلچسپی سے کتابوں کی خریداری بھی کی۔







