عوامی نمائندگی کےخلاف کوئی قانون منظور نہیں ہو گا ،متنازع شقوں پر مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائیگا،وزیراطلاعات شفیع جان

استحقاق ایکٹ 2025 کے متنازع نکات پر مشاورت جاری، غلط فہمیاں دور کی جائیں گی:

پشاور۔ 08 جولائی (اے پی پی):خیبرپختونخوا اسمبلی میں شدید سیاسی اختلافات رکھنے والی حکومت اور اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹیرینز کے استحقاق اور مراعات کے معاملے پر یک زبان نظر آئیں۔

اسمبلی میں صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان، پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی، عوامی نیشنل پارٹی کے ارباب عثمان اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کی رکن اسمبلی صوبیہ شاہد نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ۔پارلیمانی رہنمائوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے استحقاق ایکٹ 2025 سے متعلق پھیلنے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ متنازع نکات پر نظرثانی کے لیے مشاورت جاری ہے۔اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو ہر معاملے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ استحقاق ایکٹ 2025 کے حوالے سے متعدد غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پرانے قانون میں ترامیم کر کے بل اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا، جبکہ بلیو پاسپورٹ سے متعلق شق کابینہ کے منظور شدہ مسودے میں شامل نہیں تھی بلکہ اسمبلی میں ترمیم کے ذریعے شامل کی گئی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے متنازع نکات پر تمام پارلیمانی رہنماؤں اور صحافی برادری سے مشاورت کی ہدایت دی ہے تاکہ عوام کے تحفظات کو دور کیا جا سکے۔شفیع جان کے مطابق اراکینِ قومی اسمبلی اور ان کی شریک حیات کو پہلے ہی بلیو پاسپورٹ کی سہولت حاصل ہے، جبکہ ملک بھر میں اب تک تقریبا 57 ہزار بلیو پاسپورٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلیو پاسپورٹ صرف پارلیمنٹیرینز تک محدود نہیں بلکہ دیگر سرکاری شخصیات کو بھی جاری کیے جاتے ہیں صوبائی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین کی تنخواہیں دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم ہیں، جبکہ گیسٹ ہاؤسز میں مفت قیام، ریسٹ ہائوسز کے استعمال اور بعض دیگر سہولیات 1988 کے قانون میں پہلے سے موجود ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی نے کہا کہ قانون سازی اسمبلی کا آئینی اختیار ہے، سپیکر کے لیے ریڈ پاسپورٹ کی تجویز بھی زیر غور لائی گئی تھی۔عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ارباب عثمان نے کہا کہ خیبرپختونخوا اس وقت مختلف بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے صوبے کو زیادہ سہولیات اور مراعات ملنی چاہئیں۔ان کا کہنا تھا کہ بلیو پاسپورٹ کوئی غیرمعمولی چیز نہیں، اگر دیگر طبقات کو یہ سہولت حاصل ہے تو منتخب عوامی نمائندوں کو بھی ملنی چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ اسلحہ لائسنس اور پاسپورٹ جیسے معاملات وفاقی حکومت کے دائر اختیار میں آتے ہیں۔مسلم لیگ ن کی رکن صوبائی اسمبلی صوبیہ شاہد نے کہا کہ استحقاق ایکٹ میں شامل متعدد مراعات پہلے سے موجود قوانین کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ بل کی تیاری کے دوران تمام صوبوں کے استحقاق قوانین کا جائزہ لیا گیا اور خیبرپختونخوا کے اراکین کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم مراعات حاصل ہیں۔ان کے مطابق ریسٹ ہاؤسز کے استعمال اور ٹول ٹیکس میں چھوٹ جیسی سہولیات بھی پہلے سے نافذ ہیں۔رہنمائوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی نمائندگی کے خلاف کوئی قانون منظور نہیں کیا جائے گا اور متنازع شقوں پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔

مزید خبریں