بینکاری شعبے کو زیادہ جدید، ڈیجیٹل، جامع اور پائیدار بنانے کے لیے اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد کا پاکستان بینکنگ سمٹ سے خطاب

گورنر سٹیٹ بینک کا جدید، ڈیجیٹل اور پائیدار بینکاری نظام کے فروغ کے عزم کا اظہار

کراچی۔8جولائی (اے پی پی):گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ ملک میں معاشی اور مالیاتی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے بینکاری شعبے کو زیادہ جدید، ڈیجیٹل، جامع اور پائیدار بنانے کے لیے اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے۔

زرعی شعبے، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار(ایس ایم ایز) اور کم لاگت رہائش جیسے ترجیحی شعبوں کو مالی سہولیات کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پاکستان بینکنگ سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ عالمی معیشت اس وقت جغرافیائی کشیدگی، مہنگائی، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتے ہوئے قرضوں جیسے بڑے چیلنجز سے گزر رہی ہے ،تاہم یہی حالات مالیاتی شعبے کے لیے نئی جدت اور ترقی کے مواقع بھی فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک کا وژن 2028 ڈیجیٹل تبدیلی کو مرکزیت دیتا ہے جس کے تحت ڈیجیٹل بینکاری، ڈیجیٹل ادائیگیوں، سائبر سکیورٹی، اوپن بینکنگ، الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز، مشترکہ نظام اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے فراڈ کی روک تھام جیسے اقدامات پر کام جاری ہے۔ گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ آج پاکستان میں 92 فیصد سے زائد ریٹیل مالیاتی لین دین ڈیجیٹل ذرائع سے انجام پا رہا ہے جبکہ ملک میں مالیاتی اکائونٹس کی تعداد 26 کروڑ 80 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، اسی طرح راست کے منفرد رجسٹرڈ آئی ڈیز کی تعداد 4 کروڑ 90 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کی تمام مالی ادائیگیوں کو بھی محفوظ ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل تبدیلی کو محض ٹیکنالوجی منصوبہ نہیں بلکہ طویل المدتی سرمایہ کاری سمجھیں، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ڈیٹا اینالیٹکس اور انسانی وسائل پر سرمایہ کاری بڑھائیں جبکہ خواتین، نوجوانوں، ایس ایم ایز اور دیگر نظر انداز طبقات کے لیے جدید مالیاتی مصنوعات متعارف کرائیں۔گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ مالیاتی شعبے کی کامیابی کا انحصار عوام کے اعتماد پر ہے، اس لیے سائبر سکیورٹی، ڈیٹا کے تحفظ اور آپریشنل ریزیلینس کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار اور کم لاگت رہائش پاکستان کی معیشت، روزگار اور برآمدات کے لیے انتہائی اہم شعبے ہیں تاہم انہیں اب بھی مالی وسائل کی کمی کا سامنا ہے، اس مقصد کے لیے سٹیٹ بینک نے ریگولیٹری اصلاحات، رسک شیئرنگ، ری فنانس سکیموں اور ڈیجیٹل سہولیات کے ذریعے بینکوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا ہے۔ گورنر نے بتایا کہ آسان زرعی قرضہ سکیم کے ذریعے چھوٹے کسانوں کو تیز، آسان اور ڈیجیٹل قرضوں کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ آسان فنانس سکیم، رسک کوریج سکیم اور وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون سکیم کے تحت چھوٹے کاروباروں کی مالی معاونت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون 2021ء سے دسمبر 2025ء کے درمیان ایس ایم ای فنانسنگ دوگنا سے زیادہ ہو چکی ہے جبکہ قرض لینے والے کاروباروں کی تعداد میں تقریباً 75 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ حکومت اور سٹیٹ بینک نے جون 2028ء تک ایس ایم ای فنانسنگ کو بڑھا کر 1.5 ٹریلین کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اسی طرح ایس ایم ای قرض لینے والوں کی تعداد 7 لاکھ 50 ہزار تک پہنچانے کا بھی ہدف ہے۔ گورنر سٹیٹ بینک نے ملکی معاشی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران متعدد چیلنجز کے باوجود پاکستان کی معیشت نے غیر معمولی استحکام کا مظاہرہ کیا اور بیشتر معاشی اشاریے توقعات سے بہتر رہے۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں اوسط مہنگائی 7.5 فیصد رہی جبکہ عالمی ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے باعث مالی سال 2026-27 میں مہنگائی کے مزید کم ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ جولائی تا مارچ کے دوران حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد رہی جبکہ پورے مالی سال کے لیے معاشی شرح نمو تقریبا 3.7 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ سٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ مالی سال 2026-27 میں معاشی ترقی کی رفتار مزید بہتر ہوگی۔گورنر سٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ جولائی سے مئی تک کرنٹ اکائونٹ مسلسل سرپلس میں رہا جس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر اور خدمات کی برآمدات نے اہم کردار ادا کیا۔ اس دوران سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 18.4 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئے، حالانکہ اس عرصے میں بڑے پیمانے پر بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں بھی کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط معاشی بنیادیں نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور بینکاری شعبے کی موثر کارکردگی کے لیے ناگزیر ہیں۔ سٹیٹ بینک آئندہ بھی ایسا ریگولیٹری ماحول فراہم کرتا رہے گا جو جدت، سرمایہ کاری، مالی شمولیت اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دے جبکہ بینکاری صنعت سے توقع ہے کہ وہ صارفین کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید اور موثر مالیاتی خدمات کی فراہمی میں اپنا کردار مزید مضبوط کرے گی۔

مزید خبریں