چیئرپرسن سینیٹر قرۃ العین مری کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کا اجلاس

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا پی ایس ڈی پی منصوبوں، این ایچ اے قرضوں اور قومی صحت پروگرام کا جائزہ

اسلام آباد۔8جولائی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر قرۃ العین مری کی زیر صدارت منعقد ہوا۔کمیٹی نے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت جاری بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو فراہم کیے گئے کیش ڈویلپمنٹ لونز (سی ڈی ایل) اور پی ایس ڈی پی کے تحت وزیراعظم کے قومی صحت پروگرام پر عمل درآمد کا جائزہ لیا۔

این ایچ اے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ انفراسٹرکچر منصوبوں کی مالی معاونت کیش ڈویلپمنٹ لونز اور اقتصادی امور ڈویژن کے ذریعے فراہم کیے جانے والے غیر ملکی قرضوں سے کی جاتی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ این ایچ اے کے قرضوں میں اصل رقم اور اس پر جمع ہونے والا سود دونوں شامل ہیں جبکہ گزشتہ برسوں کے دوران پی ایس ڈی پی کی مختص رقم سے قرضوں کی ادائیگی کے لیے بھاری کٹوتیاں کی گئی ہیں جن کا بڑا حصہ سود کی ادائیگی پر خرچ ہوا۔این ایچ اے 2018ء سے اب تک قرضوں کی تنظیم نو کے چار اقدامات کر چکا ہے۔ حکام کے مطابق موجودہ تجویز کے تحت ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے جاری سٹیٹ اونڈ انٹرپرائز ٹرانسفارمیشن پروگرام کی تکمیل تک کیش ڈویلپمنٹ لونز اور غیر ملکی قرضوں پر واجب الادا سود کو اصل قرض میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ وزارت خزانہ نے کسی بھی رعایت یا مہلت کو قرضوں کی مکمل درجہ بندی، تجارتی طور پر قابل عمل منصوبوں کی تیسرے فریق سے جانچ، تنظیم نو کی تجاویز اور 31 دسمبر 2026ء تک مجاز فورم سے منظوری سے مشروط کر دیا ہے۔ کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ 20 جنوری 2021ء کو وفاقی کابینہ کی جانب سے جامع کاروباری منصوبہ تیار کرنے اور غیر تجارتی منصوبوں کو گرانٹس میں تبدیل کرنے کے فیصلے کے باوجود اس پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ چیئرپرسن نے این ایچ اے کو ہدایت کی کہ وہ دس روز کے اندر جامع قرضوں کی تنظیم نو کی تجویز، کابینہ اور اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے فیصلوں پر عمل درآمد کی رپورٹ، منصوبوں کی درجہ بندی اور آئندہ مالیاتی طریقہ کار سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔ این ایچ اے حکام نے بتایا کہ اس وقت ٹول ٹیکس کی مد میں سالانہ تقریباً 120 ارب روپے آمدن حاصل ہو رہی ہے جو سڑکوں کی مرمت، ملازمین کی تنخواہوں اور آپریشنل اخراجات پر خرچ کی جاتی ہے۔ حکام نے وضاحت کی کہ صرف موٹرویز اور تجارتی لحاظ سے منافع بخش راہداریوں سے پائیدار آمدن حاصل ہوتی ہے جبکہ گلگت بلتستان، چترال، کشمیر اور دیگر پسماندہ و پہاڑی علاقوں میں تعمیر کی جانے والی سڑکیں عوامی خدمت کے تحت بنائی جاتی ہیں اور ان کی لاگت ٹول ٹیکس کے ذریعے پوری نہیں ہو سکتی۔بعدازاں کمیٹی نے بڑے موٹروے منصوبوں پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔ این ایچ اے نے بتایا کہ حیدرآباد-سکھر (M-6) موٹروے منصوبے کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں سے دو حصوں کے لیے مالیاتی انتظامات مکمل ہو چکے ہیں جبکہ مزید حصوں پر عملی کام ستمبر 2026ء تک شروع ہونے کی توقع ہے۔حکام نے سمبڑیال-کھاریاں موٹروے، راولپنڈی رنگ روڈ، این-55 کی بہتری اور دیگر جاری منصوبوں پر بھی کمیٹی کو بریفنگ دی۔ کمیٹی نے این ایچ اے کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں تمام بڑے موٹروے اور شاہراہی منصوبوں پر پیش رفت، مالیاتی انتظامات، تکمیل کی مدت اور تجارتی و غیر ملکی قرضوں کی صورتحال پر جامع رپورٹ پیش کی جائے۔کمیٹی نے بعدازاں وزیراعظم کے قومی صحت پروگرام پر عمل درآمد کا جائزہ لیا۔وزارت قومی صحت کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت یہ پروگرام اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں یونیورسل ہیلتھ کوریج (یو ایچ سی) فراہم کر رہا ہے جبکہ صوبہ سندھ میں اس کے صوبہ بھر میں نفاذ کے لیے حکومت سندھ سے مشاورت جاری ہے۔حکام نے بتایا کہ آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت اپنی آبادی کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ داری صوبوں پر عائد ہوتی ہے جبکہ وفاقی حکومت اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں معاونت جاری رکھے ہوئے ہے۔حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اس پروگرام کے تحت سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے ذریعے تیسرے فریق کے مسابقتی انشورنس ماڈل کے تحت 600 سے زائد سرکاری و نجی ہسپتالوں کے نیٹ ورک میں ہر خاندان کو سالانہ 10 لاکھ روپے تک کے اندرون اسپتال علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس سکیم کے تحت دل کے امراض، کینسر کا علاج، ڈائیلاسز، جھلسنے کے واقعات، شدید چوٹوں اور دیگر بڑے طبی آپریشنز سمیت مہنگے امراض کا علاج شامل ہے۔مزید بتایا گیا کہ اگرچہ پاکستان کا سالانہ صحت بجٹ 1.154 ارب روپے سے زائد ہے تاہم ملک بھر میں یونیورسل ان پیشنٹ ہیلتھ کوریج تقریباً 211 ارب روپے سالانہ لاگت سے فراہم کی جا سکتی ہے جبکہ ہسپتالوں کے متوقع کلیمز تقریباً 160 ارب روپے ہوں گے۔کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہسپتالوں پر اخراجات کم کرنے اور صحت کے مجموعی نتائج بہتر بنانے کے لیے بنیادی صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ کمیٹی کے ارکان نے صحت کی مالی معاونت میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ سرکاری ہسپتالوں کی بہتری پر بھی زور دیا۔کمیٹی نے وزارت قومی صحت کو ہدایت کی کہ وہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری رکھتے ہوئے یونیورسل ہیلتھ کوریج کو مزید مضبوط بنائے، بنیادی صحت کی سہولیات کو اس پروگرام کے ساتھ موثر انداز میں مربوط کرے اور وزیراعظم کے قومی صحت پروگرام کے پائیدار نفاذ کو یقینی بنائے۔اجلاس میں سینیٹر محمد طلحہ محمود کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد پر وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے سیکریٹری کی بریفنگ سے متعلق ایجنڈا آئٹم موخر کر دیا گیا جسے آئندہ اجلاس میں زیر غور لایا جائے گا۔اجلاس میں سینیٹر جام سیف اللہ خان، سینیٹر شہادت اعوان، سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان اور سینیٹر سعدیہ عباسی نے شرکت کی۔ وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، وزارت خزانہ، وزارت مواصلات، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)، وزارت قومی صحت، ضوابط و رابطہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔

مزید خبریں