قوام متحدہ نے کہا ہے کہ مشرقی جمہوریہ کانگو (ڈی آر کانگو) میں ایبولا کی وبا پر قابو پانے کی کوششوں کے دوران امدادی اور طبی کارکنوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے نتیجے میں اب تک 45 افراد زخمی ہو چکے ہیں، جس سے وبا پر قابو پانے کی کارروائیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
کانگو میں حملوں کے نتیجے میں ایبولا سے نمٹنے والے 45 امدادی و طبی کارکن زخمی، اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔9جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ مشرقی جمہوریہ کانگو (ڈی آر کانگو) میں ایبولا کی وبا پر قابو پانے کی کوششوں کے دوران امدادی اور طبی کارکنوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے نتیجے میں اب تک 45 افراد زخمی ہو چکے ہیں، جس سے وبا پر قابو پانے کی کارروائیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوسی ایچ اے ) کے مطابق مئی کے وسط میں ایبولا کے حالیہ پھیلاؤ کے بعد سے امدادی و طبی عملے کو نشانہ بنانے کے 76 سکیورٹی واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ یہ واقعات ایتوری، شمالی کیوو اور جنوبی کیوو کے صوبوں میں پیش آئے۔
او سی ایچ اے نے کہا کہ ایبولا سے نمٹنے والے عملے کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد پر گہری تشویش ہے، کیونکہ اس سے وبا پر قابو پانے کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار ادارے مقامی رہنماؤں، حکام، سول سوسائٹی اور متاثرہ آبادی کے ساتھ رابطے بڑھا رہے ہیں تاکہ خدشات دور کیے جا سکیں، غلط معلومات کا تدارک ہو اور امدادی سرگرمیوں سے متعلق آگاہی میں اضافہ کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق شمالی کیوو کے شہر بوٹیمبو میں پیر کے روز نامعلوم مسلح افراد نے ایبولا علاج مرکز پر حملہ کر کے عمارت کے ایک حصے کو آگ لگا دی۔اقوام متحدہ نے ایک بار پھر طبی کارکنوں، علاج گاہوں اور وبا سے نمٹنے والی ٹیموں کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ محفوظ ماحول کے بغیر انسانی جانیں بچانے والی کارروائیاں، مریضوں کی نشاندہی، متاثرہ افراد کے رابطوں کا سراغ لگانے اور علاج کی کوششیں شدید متاثر ہوں گی۔قومی صحت حکام کے مطابق پیر تک ایتوری، شمالی کیوو اور جنوبی کیوو میں ایبولا کے 1708تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ وبا کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے اور ایتوری کے”بوگا ہیلتھ زون” میں بھی نئے مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں۔








