محکمہ زراعت نے دھان کے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پنیری اکھاڑتے وقت جھلسے ہوئے اور سنڈی سے متاثرہ پودوں کو الگ کرکے فوری طور پر زمین میں تلف کریں تاکہ بیماریوں اور کیڑوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور فصل کی بہتر نشوونما یقینی بنائی جا سکے
محکمہ زراعت کی دھان کی پنیری اکھاڑتے وقت جھلسے ہوئے اور سنڈی سے متاثرہ پودے فوری تلف کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
سیالکوٹ۔9جولائی (اے پی پی):محکمہ زراعت نے دھان کے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پنیری اکھاڑتے وقت جھلسے ہوئے اور سنڈی سے متاثرہ پودوں کو الگ کرکے فوری طور پر زمین میں تلف کریں تاکہ بیماریوں اور کیڑوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور فصل کی بہتر نشوونما یقینی بنائی جا سکے۔زراعت آفیسر مرکز کینٹ سیالکوٹ عمار عبداللہ نے "اے پی پی” سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کاشتکار دھان کی پنیری 9×9 انچ کے فاصلے پر دو، دو پودے اکٹھے لگائیں۔
اس طریقہ کار سے فی ایکڑ تقریباً 80 ہزار سوراخ اور ایک لاکھ 60 ہزار پودے لگائے جا سکتے ہیں، جس سے بہتر پیداوار کے حصول میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگر کھیت میں پانی وافر مقدار میں دستیاب ہو تو جڑی بوٹیوں کی مؤثر تلفی کے لیے تین انچ پانی 30 دن تک کھڑا رکھا جائے، جبکہ اگر جڑی بوٹی مار زہر استعمال کرنا مقصود ہو تو پنیری کی منتقلی کے تین سے پانچ دن کے اندر سفارش کردہ زہر کا چھڑکاؤ کیا جائے۔عمار عبداللہ نے کہا کہ دھان کی بہتر پیداوار کے لیے متوازن کھادوں کا استعمال بھی انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ موٹی اقسام کے لیے فی ایکڑ پونے دو بوری ڈی اے پی، سوا دو بوری یوریا اور سوا بوری پوٹاشیم سلفیٹ استعمال کی جائے، جبکہ باسمتی اقسام کے لیے ڈیڑھ بوری ڈی اے پی، پونی بوری یوریا اور ایک بوری پوٹاش فی ایکڑ بوقت منتقلی پنیری ڈالنے کی سفارش کی جاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کاشتکار دھان کی کامیاب کاشت اور بہتر پیداوار کے لیے مزید رہنمائی حاصل کرنے کی غرض سے محکمہ زراعت کے فیلڈ اسٹاف یا ماہرین زراعت سے رابطہ کر سکتے ہیں۔








