لاہور ہائیکورٹ کا بیٹوں کی طرف سے پاگل خانے میں داخل کرائے گئے شہری کو بازیاب کروا کر فوری رہا کرنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ نے مبینہ طور پر ذہنی مریضوں کے بحالی مرکز میں داخل کئے گئے شہری ناصر خان دولتانہ کو بازیاب کروا کر فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

لاہور۔9جولائی (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے مبینہ طور پر ذہنی مریضوں کے بحالی مرکز میں داخل کئے گئے شہری ناصر خان دولتانہ کو بازیاب کروا کر فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ جائیداد کے تنازع اور دولت کے لالچ کے باعث ان کے بچوں نے انہیں زبردستی بحالی مرکز میں داخل کروایا۔جسٹس فاروق حیدر نے بازیابی درخواست پر سماعت کی۔تھانہ شادمان پولیس نے ناصر خان دولتانہ کو عدالت میں پیش کیا۔درخواست گزار عامر کی جانب سے ایڈووکیٹ صغراں گلزار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ناصر خان دولتانہ کے نام لڈن۔وہاڑی میں قیمتی کمرشل اراضی موجود ہے۔انہوں نے 19 جون2026 کو تقریبا28 کروڑ روپے مالیت کی آٹھ ایکڑ اراضی فروخت کرنے کا معاہدہ کیا جس کے بعد ان کے چار بچوں نے رنجش کی بنا پر انہیں ذہنی مریض قرار دیکر28 جون 2026 کو مبینہ طور پر زبردستی ایک پاگل خانے میں داخل کرا دیا۔ وکیل کے مطابق ناصر خان دولتانہ اس سے قبل اپنے ایک بیٹے اور تین بیٹیوں کے نام80 ایکڑ اراضی بھی منتقل کر چکے ہیں،درخواست میں استدعا کی گئی کہ ایک تندرست شخص کو غیرقانونی طور پر ذہنی مریضوں کے بحالی مرکز میں رکھنا خلاف قانون ہے لہذا اسے فوری رہا کیا جائے۔عدالت نے بازیابی کے بعد رہائی کا حکم جاری کر دیا۔

مزید خبریں