آزاد، مؤثر اور عوام دوست عدلیہ قانون کی حکمرانی اور پائیدار ترقی کی بنیاد ہے، چیف جسٹس پاکستان

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ آزاد، مؤثر اور عوام دوست عدلیہ قانون کی حکمرانی اور پائیدار ترقی کی بنیاد ہے جبکہ عدالتی اداروں کو ثالثی، انصاف تک رسائی، عدالتی تربیت اور بنیادی حقوق کے تحفظ جیسے شعبوں میں بین الاقوامی تعاون اور بہترین تجربات سے استفادہ کرنا چاہئے

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی

مزید خبریں

اسلام آباد۔9جولائی (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ آزاد، مؤثر اور عوام دوست عدلیہ قانون کی حکمرانی اور پائیدار ترقی کی بنیاد ہے جبکہ عدالتی اداروں کو ثالثی، انصاف تک رسائی، عدالتی تربیت اور بنیادی حقوق کے تحفظ جیسے شعبوں میں بین الاقوامی تعاون اور بہترین تجربات سے استفادہ کرنا چاہئے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں مسلم ورلڈ لیگ کا اعلیٰ سطحی وفد، پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نوّاف بن سعید المالکی اور وزارت خارجہ کے سینئر حکام بھی شریک تھے۔چیف جسٹس پاکستان نے مسلم ورلڈ لیگ کی بین المذاہب و بین الثقافتی مکالمے، اسلام کی حقیقی تعلیمات کے فروغ، انتہاپسندی اور اسلاموفوبیا کے خلاف کوششوں اور مسلم دنیا میں انسانی ہمدردی کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ کی قیادت کو باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور مشترکہ انسانی اقدار کے فروغ میں اہم قرار دیا۔

چیف جسٹس نے وفد کو سپریم کورٹ میں جاری اصلاحاتی ایجنڈے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ انصاف تک آسان رسائی، ادارہ جاتی شفافیت، عدالتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور عوامی اعتماد کے فروغ کے لئے متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ملاقات کے دوران دونوں جانب سے ضلعی عدلیہ کے افسران اور تکنیکی عملے کے تبادلہ پروگرام سمیت پیشہ وارانہ تعاون کے مختلف امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ استعدادِ کار میں اضافہ، باہمی سیکھنے اور عدالتی انتظام و انصرام کے بہترین طریقہ کار سے استفادہ کیا جا سکے۔شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کو سراہتے ہوئے مسلم ورلڈ لیگ کے انصاف، رواداری، پرامن بقائے باہمی اور انسانی ہمدردی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقوں نے انصاف، انسانی وقار، سماجی ہم آہنگی اور قانون کی حکمرانی کے فروغ کے لئے ادارہ جاتی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

مزید خبریں