حکومت پنجاب کی جانب سے چاول کی فصل پر 13 پیسٹی سائیڈز کے استعمال پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد محکمہ زراعت (پلانٹ پروٹیکشن)کے زیر اہتمام پیسٹی سائیڈ ڈیلرز کے لیے ایک آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا
چیچہ وطنی،حکومت پنجاب نے چاول کی فصل پر 13 پیسٹی سائیڈز کے استعمال پر پابندی عائد کردی

مزید خبریں
چیچہ وطنی۔ 10 جولائی (اے پی پی):حکومت پنجاب کی جانب سے چاول کی فصل پر 13 پیسٹی سائیڈز کے استعمال پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد محکمہ زراعت (پلانٹ پروٹیکشن)کے زیر اہتمام پیسٹی سائیڈ ڈیلرز کے لیے ایک آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا ،جس میں ممنوعہ ادویات کے استعمال کے نقصانات اور متبادل سفارشات سے آگاہ کیا گیا۔نجی ہوٹل میں منعقدہ سیمینار میں ڈائریکٹر زراعت پلانٹ پروٹیکشن ظہور احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر رانا شکیل اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد عدیل نے شرکت کی۔ مقررین نے بتایا کہ ممنوعہ ادویات کے استعمال سے چاول میں ایسے کیمیائی اثرات باقی رہ جاتے ہیں جو بین الاقوامی معیار سے مطابقت نہیں رکھتے، جس کے باعث پاکستانی چاول بیرون ملک منڈیوں میں مسترد ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
ڈائریکٹر زراعت پلانٹ پروٹیکشن ظہور احمد نے ڈیلرز پر زور دیا کہ وہ ممنوعہ ادویات کی فروخت اور استعمال سے اجتناب کریں اور کاشتکاروں کو منظور شدہ متبادل ادویات کے استعمال کے بارے میں آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ معیاری زرعی طریقوں کے فروغ سے نہ صرف چاول کی برآمدات میں اضافہ ممکن ہے بلکہ ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔ڈپٹی ڈائریکٹر رانا شکیل نے شرکا کو ممنوعہ پیسٹی سائیڈز، ان کے مضر اثرات اور متبادل سفارشات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔سیمینار کے اختتام پر پیسٹی سائیڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر افتخار احمد خان اور چوہدری شبیر احمد نے محکمہ زراعت کی جانب سے بروقت آگاہی مہم کے انعقاد کو سراہتے ہوئے اس اقدام کو زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔








