اسرائیل کے لئے امریکی شہریوں کی حمایت میں تیزی سے کمی آئی ہے، سروے رپورٹ

غزہ میں فلسطینی شہریوں کی برے پیمانے پر نسل کشی کے بعد اسرائیل کے لئے امریکی شہریوں کی حمایت میں تیزی سے کمی آئی ہے۔الجزیرہ نے ایک نئے سروے کے حوالہ سے بتایا ہے کہ غزہ جنگ کے بعد سے امریکی شہریوں کی اسرائیلیوں کے لیے حمایت واضح طور پر کم ہوئی ہے جبکہ فلسطینیوں کے ساتھ ان کے رویے میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

واشنگٹن ۔10جولائی (اے پی پی):غزہ میں فلسطینی شہریوں کی برے پیمانے پر نسل کشی کے بعد اسرائیل کے لئے امریکی شہریوں کی حمایت میں تیزی سے کمی آئی ہے۔الجزیرہ نے ایک نئے سروے کے حوالہ سے بتایا ہے کہ غزہ جنگ کے بعد سے امریکی شہریوں کی اسرائیلیوں کے لیے حمایت واضح طور پر کم ہوئی ہے جبکہ فلسطینیوں کے ساتھ ان کے رویے میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ سروے کے مطابق 2022 میں 67 فیصد امریکی شہری اسرائیلی عوام کی حمایت کے جذبات رکھتے تھے ، اب اسرائیل کے لئے ایسے جذبات رکھنے والے امریکی شہریوں کا تناسب کم ہو کر 52 فیصد رہ گیا ہے۔

سروے میں یہ بھی پایا گیا کہ امریکی شہریوں کی اکثریت اسرائیلی حکومت، فلسطینی اتھارٹی اور فلسطینی عسکریت پسندوں بارے منفی خیالات رکھتی ہے، حالیہ برسوں میں امریکی شہریوں میں اسرائیل کی حکومت بارے منفی خیالات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ علاوہ ازیں 30 سال سے کم عمر کے امریکیوں میں 58 فیصد فلسطینیوں کو پسندیدگی سے دیکھتے ہیں جبکہ صرف 32 فیصد اسرائیلیوں کے بارے میں مثبت نظریہ کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ فرق نوجوان ڈیموکریٹس میں سب سے زیادہ ہے، جن میں سے 72 فیصد فلسطینیوں کو پسندیدگی سے دیکھتے ہیں جبکہ صرف 26 فیصد اسرائیلیوں کے بارے میں یہی کہتے ہیں۔نوجوان ریپبلکن اب فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو یکساں سطح پر دیکھتے ہیں جو چند سال پہلے کے مقابلے میں تیزی سے تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ چند سال قبل نوجوان ریپبلکن نمایاں طور پر اسرائیلیوں کی حمایت کرتے تھے۔