پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی نے وفاقی دارالحکومت میں ورچوئل سکولوں کیلئے جامع ریگولیٹری فریم ورک کی منظوری دے دی

آئی سی ٹی-پیرا نے اسلام آباد میں ورچوئل (آن لائن) سکولوں کے لیے جامع ریگولیٹری فریم ورک منظور کر لیا، جس سے آن لائن تعلیم کے معیار، شفافیت اور مؤثر نگرانی کو فروغ ملے گا۔

اسلام آباد۔10جولائی (اے پی پی):اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (آئی سی ٹی-پیرا) نے وفاقی دارالحکومت میں ورچوئل (آن لائن) سکولوں کے لیے جامع ریگولیٹری فریم ورک کی منظوری دے دی ہے

جس کے تحت پہلی مرتبہ آن لائن تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن، نگرانی، ضابطہ بندی اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ نظام متعارف کرایا جائے گا۔آئی سی ٹی-پیرا کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق یہ ریگولیٹری فریم ورک ہائیر سیکنڈری سطح تک آن لائن تعلیم فراہم کرنے والے اداروں پر لاگو ہوگا اور اس کا مقصد ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ کے ساتھ معیاری تعلیم تک مساوی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ نئی پالیسی سے بالخصوص سکول سے باہر بچوں، دور دراز علاقوں کے طلبہ، خصوصی ضروریات کے حامل بچوں، ملازمت پیشہ افراد اور ایسے طلبہ کو فائدہ پہنچے گا جو جغرافیائی، مالی یا جسمانی رکاوٹوں کے باعث روایتی تعلیمی اداروں میں باقاعدگی سے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔ فریم ورک کے تحت آن لائن تعلیمی اداروں کے لیے اساتذہ کی ڈیجیٹل تدریس کی لازمی تربیت، محفوظ لرننگ مینجمنٹ سسٹم، سائبر سکیورٹی کے تقاضے، مسلسل تعلیمی نگرانی، قومی نصاب سے مطابقت، معیاری امتحانی نظام، طلبہ کے تحفظ اور ڈیٹا سکیورٹی کو یقینی بنانے سمیت متعدد معیارات مقرر کیے گئے ہیں۔ نگرانی کے موثر نظام کے لیے پیرا کو متعلقہ نظام تک ریڈ اونلی رسائی بھی فراہم کی جائے گی۔ اعلامیہ کے مطابق پرائمری، مڈل، سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری سطح پر ورچوئل تعلیم کے لیے الگ الگ ریگولیٹری معیارات وضع کیے گئے ہیں جن میں اساتذہ کی اہلیت، طلبہ کے سکرین ٹائم کی حدود، امتحانی طریقہ کار، عملی سرگرمیوں اور مانیٹرنگ کے طریقہ کار کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ آن لائن تعلیم کا معیار روایتی تعلیمی اداروں کے مساوی برقرار رکھا جا سکے۔ آئی سی ٹی-پیرا کے چیئرمین ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کہا کہ اس فریم ورک کی منظوری پاکستان کے تعلیمی نظام کو ذمہ دارانہ انداز میں ڈیجیٹل خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ فیڈرل بورڈ پہلے ہی آن لائن سکولوں کے طلبہ کے امتحانات کا انعقاد کر رہا ہے تاہم اس شعبے میں معیار، شفافیت، احتساب اور یکسانیت کو یقینی بنانے کے لیے جامع ریگولیٹری پالیسی ناگزیر تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فریم ورک دیگر صوبوں اور علاقوں کے لیے بھی ایک قابل عمل نمونہ ثابت ہو سکتا ہے، جس کی مدد سے وہ آن لائن تعلیم کے لیے اپنے ریگولیٹری نظام تشکیل دے سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ موثر نگرانی اور مناسب حفاظتی اقدامات کے ساتھ ٹیکنالوجی تعلیم تک رسائی بڑھانے، معیاری تدریس کو فروغ دینے اور شرح خواندگی میں اضافے کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔ ڈاکٹر غلام علی ملاح نے اس موقع پر وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی کی تیاری میں وزارت کی رہنمائی اور تعاون کلیدی اہمیت کا حامل رہا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئی سی ٹی-پیرا مستقبل میں بھی تعلیمی شعبے میں جدت، شفافیت، اعلیٰ معیار اور طلبہ کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی مواقع کی فراہمی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

مزید خبریں