پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ بھارت باز رہے،سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی ایک سنگین معاملہ اور ہائیڈرو ٹیررازم ہے۔
سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی سنگین معاملہ اور آبی دہشت گردی ہے، خرم نواز گنڈاپور

مزید خبریں
لاہور۔13جولائی (اے پی پی):پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ بھارت باز رہے،سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی ایک سنگین معاملہ اور ہائیڈرو ٹیررازم ہے۔ پیر کواے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبی دہشت گردی کی پہلی مثال 2014 میں عراق اور شام کے تنازع کے درمیان سامنے آئی جہاں نام نہاد دولت اسلامیہ یعنی داعش نے منظم انداز میں آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے دجلہ اور فرات دریائوں کے کنارے بڑے ڈیموں اور آبی تنصیبات پر قبضہ کیا اور پھر دانستہ طور پر فلڈ گیٹس کھول کر پورے قصبوں کو ڈبودیا جس سے گھر، فصلیں اور بڑی تعداد میں مویشی تباہ ہوئے اور انسانی ہجرت وجود میں آئی،اور پھر ایک اور واقعہ میں پانی کی ترسیل روک کر ایک بڑی آبادی پر خشک سالی مسلط کر دی، بھارت بھی داعش کی طرز پر آبی دہشت گردی کررہا ہے، اسے اس غیر قانونی اقدام سے سختی سے روکنا ہو گا۔
بھارت پانی کو سیاسی اور جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ایس او پیز کے مطابق کوئی بالائی ملک پانی کے قدرتی بہائو میں دخل اندازی نہیں کر سکتا اور نہ ہی پانی کو کسی ہتھکنڈے یا ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے مگر بھارت ایسا کررہا ہے۔ خرم نواز گنڈاپورنے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ 65 سال سے قابل عمل ہے، اسے معطل کرنا علاقائی نہیں بین الاقوامی قوانین سے انحراف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا یہ عمل 25کروڑ عوام کے ملک کو فاقوں کی دہلیز پر کھڑا کرنے کا ایک سنگین جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران بھی دو ملک آبی تنصیبات اور پانی کے ذخائر کو نشانہ نہیں بنا سکتے کیونکہ پانی انسانی تہذیب کاایک بنیادی وسیلہ ہے۔
خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ جنیوا کنونشنز کے اضافی پروٹوکول اول کا آرٹیکل 54 شہری آبادی کی بقا کے لئے ناگزیر اشیا پر حملوں کی ممانعت کرتا ہے جن میں پینے کے پانی کی تنصیبات اور آبپاشی کا نظام واضح طور پر شامل ہے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 292/64 میں صاف اور محفوظ پینے کے پانی کو بنیادی انسانی حق تسلیم کیا گیا ہے جبکہ بھارت سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کر کے اس بنیادی حق سے انحراف کررہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کی معطلی ایک غیر معمولی اقدام ہے، یہ سیاسی نہیں ایک قانونی مسئلہ ہے، سندھ طاس معاہدہ کی بحالی اور پاسداری کے لئے پاکستان کو سفارتکاری سمیت تمام قانونی آپشنز استعمال کرنے ہوں گے۔ اس کام میں اب مزید کوئی تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔








