چینی خلا بازوں نے خلائی سٹیشن پر نئے کمیت پیما آلے کا کامیاب تجربہ کر لیا

چین کے شینژو-23 خلائی مشن کے تین رکنی عملے نے خلائی سٹیشن پر اپ گریڈ شدہ مدار میں ماس(کمیت ) ناپنے والے آلے کا کامیاب تجربہ کر لیا، جبکہ خلا میں ان کے قیام کے 50 دن مکمل ہونے کے قریب ہیں۔

بیجنگ۔13جولائی (اے پی پی):چین کے شینژو-23 خلائی مشن کے تین رکنی عملے نے خلائی سٹیشن پر اپ گریڈ شدہ مدار میں ماس(کمیت ) ناپنے والے آلے کا کامیاب تجربہ کر لیا، جبکہ خلا میں ان کے قیام کے 50 دن مکمل ہونے کے قریب ہیں۔شنہوا کے مطابق چائنا مینڈسپیس ایجنسی (CMSA) کے مطابق خلا باز ژو یانگ ژو، ژانگ ژی یوان اور لی جیا ینگ نے گزشتہ ہفتے خلائی حیاتیاتی علوم اور انسانی جسم سے متعلق متعدد سائنسی تجربات بھی انجام دیے۔ایجنسی کے مطابق پٹھوں اور ہڈیوں سے متعلق تحقیق کے تحت خلا بازوں نے مختلف بوجھ کی حالتوں میں دوڑنے اور مزاحمتی ورزش کے دوران پاؤں کے دباؤ، ٹانگوں کی بائیومکینیکل جانچ اور پٹھوں و ٹینڈن کے تجزیے کیے۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار کی مدد سے خلائی ماحول میں پٹھوں اور ٹینڈن کے باہمی تعامل میں آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔خلانوردوں نے Near-Infrared دماغی امیجنگ آلات کے ذریعے اعصابی افعال سے متعلق تجربات بھی کیے، جن کے ذریعے زمینی سائنس دان یہ تحقیق کریں گے کہ خلائی ماحول خلا بازوں کی ذہنی کارکردگی اور ادراکی صلاحیتوں پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔عملے نے بے وزنی کی کیفیت کے جسمانی اثرات سے نمٹنے کے لیے اپنی روزانہ کی جسمانی ورزش بھی جاری رکھی۔چین نے 24 مئی کو شینژو-23 خلائی جہاز روانہ کیا تھا۔ اس مشن کی خاص بات خلا میں ایک سالہ قیام کا تجربہ ہے، جس سے مستقبل میں طویل المدتی خلائی مشنز کے لیے اہم سائنسی معلومات حاصل ہوں گی۔