پاکستان ہاکی فیڈریشن کا آئندہ برس خواتین کھلاڑیوں کیلئے متعدد منصوبوں کا اعلان ،ترجمان

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ترجمان کے مطابق پاکستان میں خواتین ہاکی کی ترقی و ترویج ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں پاکستان ہاکی فیڈریشن کی قیادت اور پروفیشنل ڈویلپمنٹ کمیٹی کے اقدامات نے مختصر عرصے میں نمایاں نتائج سامنے لائے ہیں۔

لاہور۔14جولائی (اے پی پی):پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ترجمان کے مطابق پاکستان میں خواتین ہاکی کی ترقی و ترویج ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں پاکستان ہاکی فیڈریشن کی قیادت اور پروفیشنل ڈویلپمنٹ کمیٹی کے اقدامات نے مختصر عرصے میں نمایاں نتائج سامنے لائے ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں جولائی 2026 کے آغاز میں منعقد ہونے والی نیشنل انڈر 21 گرلز ہاکی چیمپئن شپ کے لیے ابتدا میں صرف پانچ سے چھ ٹیموں کی شرکت متوقع تھی، تاہم ملک بھر میں غیرمعمولی دلچسپی کے باعث ٹیموں کی تعداد بڑھ کر 16 ہو گئی۔ چیمپئن شپ میں 300 سے زائد کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ فیڈریشن کے مطابق ایونٹ کا بنیادی مقصد سفارش کے بجائے خالص میرٹ کی بنیاد پر باصلاحیت کھلاڑیوں کو قومی سطح پر سامنے لانا تھا۔چیمپئن شپ کے دوران ہی پاکستان کو عمان میں ہونے والی انڈر 18 اور انڈر 21 گرلز فائیو اے سائیڈ ہاکی چیمپئن شپ میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی، تاہم منتخب کھلاڑیوں میں سے تقریبا 70 فیصد کے پاس پاسپورٹ، شناختی کارڈ یا ب فارم موجود نہیں تھا۔ فیڈریشن کے مطابق صرف 24 سے 36 گھنٹوں کے اندر کھلاڑیوں کی شناختی دستاویزات سمیت تمام سفری معاملات مکمل کیے گئے، جس کے بعد قومی ٹیم بروقت عمان روانہ ہو گئی۔عمان میں پاکستانی ٹیم نے عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہانگ کانگ چین کے خلاف اپنے میچ میں شاندار کارکردگی پیش کی، جہاں قومی ٹیم کی کپتان کو "پلیئر آف دی میچ” کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ اس کامیابی کو خواتین ہاکی کے لیے حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے آئندہ برس کے لیے بھی متعدد منصوبوں کا اعلان کیا ہے، جن کے تحت خواتین کھلاڑیوں کی تعداد 300 سے بڑھا کر 500 تک لے جانے، ریجنل سطح پر مقابلوں کے انعقاد، انڈر 15 گرلز ہاکی چیمپئن شپ کے آغاز اور غیرملکی ماہر کوچز کی نگرانی میں ہائی پرفارمنس کیمپس قائم کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد خواتین ہاکی کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کے لیے تیار کرنا ہے۔