دھان کی لاب منتقل کرتے وقت پنیری کی عمر کا خاص خیال رکھا جائے، محکمہ زراعت

محکمہ زراعت نے دھان کے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ کھیت میں لاب کی منتقلی کے وقت پنیری کی عمر کا خاص خیال رکھا جائے اور 25 سے 35 دن عمر کی پنیری کی کاشت کو یقینی بنایا جائے تاکہ بہتر پیداوار حاصل ہو سکے۔

سیالکوٹ۔14جولائی (اے پی پی):محکمہ زراعت نے دھان کے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ کھیت میں لاب کی منتقلی کے وقت پنیری کی عمر کا خاص خیال رکھا جائے اور 25 سے 35 دن عمر کی پنیری کی کاشت کو یقینی بنایا جائے تاکہ بہتر پیداوار حاصل ہو سکے۔

ترجمان محکمہ زراعت سیالکوٹ کے مطابق کاشتکار پنیری اکھاڑنے سے ایک سے دو روز قبل کھیت کو پانی دیں تاکہ زمین نرم ہو جائے اور پنیری اکھاڑتے وقت پودوں کی جڑیں ٹوٹنے سے محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاب لگاتے وقت دو، دو پودے نو، نو انچ کے فاصلے پر لگائے جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ لاب کی منتقلی کے بعد اضافی پنیری کی چند ہتھیاں وٹوں کے ساتھ پانی میں بھی رکھ دی جائیں تاکہ جہاں پودے مر جائیں وہاں فوری طور پر نئی لاب لگائی جا سکے۔ترجمان نے بتایا کہ سپر باسمتی، باسمتی 385، باسمتی 2000، باسمتی 315، باسمتی 370 اور پی ایس-2 سمیت دیگر اقسام کی لاب کی منتقلی 20 جولائی تک جبکہ شاہین باسمتی کی لاب 31 جولائی تک مکمل کر لی جائے۔انہوں نے کہا کہ لاب لگانے کے 10 سے 12 روز بعد فی ایکڑ 35 فیصد زنک سلفیٹ 5 کلوگرام یا 21 فیصد زنک سلفیٹ 10 کلوگرام استعمال کیا جائے۔ کھاد ڈالتے وقت کھیت میں پانی کی مقدار کم سے کم رکھی جائے، جبکہ بہتر نتائج کے لیے کھیت میں پانی کے بجائے صرف کیچڑ موجود ہو۔ترجمان نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ وہ دھان کی بہتر پیداوار کے لیے محکمہ زراعت کی سفارشات پر عمل کریں اور مزید رہنمائی کے لیے ماہرین زراعت یا محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف سے رابطہ کریں۔