لاکنڈ میں دریاؤں اور نہروں میں نہانے، تیرنے اور کشتی رانی پر 30 روزہ پابندی نافذ

ڈپٹی کمشنر و ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ملاکنڈ محمد فیاض خان نے عوامی تحفظ کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے دریاؤں، نہروں میں نہانے، تیرنے اور کشتی رانی پر 30 روز کے لیے مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

پشاور۔ 14 جولائی (اے پی پی):ڈپٹی کمشنر و ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ملاکنڈ محمد فیاض خان نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت دریاؤں اور نہروں میں نہانے، تیرنے اور کشتی رانی پر 30 روز کے لیے مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

ضلعی انتظامیہ مالاکنڈ تر جمان کے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق حالیہ مون سون سیزن کے دوران متعلقہ اداروں کی جانب سے فلیش فلڈ کے مسلسل انتباہات کے باوجود متعدد افراد دریائے سوات اور بٹ خیلہ و درگئی کی نہروں میں گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے نہانے، تیرنے اور کشتی رانی جیسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جس سے قیمتی انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ مون سون بارشوں کے دوران دریاؤں اور ان سے ملحقہ آبی گزرگاہوں میں پانی کی سطح اچانک بلند ہونے، گہرائی میں غیر متوقع تبدیلی اور حفاظتی انتظامات کے فقدان کے باعث ڈوبنے اور دیگر جان لیوا حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، لہٰذا عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے یہ احتیاطی اقدام ناگزیر تھا۔ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا ہے کہ ضلع ملاکنڈ کی حدود میں پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 188 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حکم نامے کے مطابق یہ پابندی 10 جولائی 2026 سے نافذ العمل ہو گئی ہے اور آئندہ 30 روز تک برقرار رہے

مزید خبریں