صوبائی مشیر برائے ماحولیات نسیم الرحمن خان ملاخیل سے مختلف سیاسی، سماجی، قبائلی اور شہری نمائندوں پر مشتمل وفود کی ملاقات

صوبائی مشیر برائے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمن خان ملاخیل سے منگل کے روز مختلف سیاسی، سماجی، قبائلی اور شہری نمائندوں پر مشتمل وفود نے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران بلوچستان کی مجموعی سیاسی صورتحال، عوام کو درپیش مسائل، صوبے کی ترقی

کوئٹہ۔ 14 جولائی (اے پی پی):صوبائی مشیر برائے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمن خان ملاخیل سے منگل کے روز مختلف سیاسی، سماجی، قبائلی اور شہری نمائندوں پر مشتمل وفود نے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران بلوچستان کی مجموعی سیاسی صورتحال، عوام کو درپیش مسائل، صوبے کی ترقی، امن و امان، ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور حکومت کی جانب سے جاری ترقیاتی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفود نے صوبائی مشیر کو اپنے اپنے علاقوں کے مسائل، عوامی مشکلات اور ترقیاتی ضروریات سے آگاہ کرتے ہوئے مختلف تجاویز پیش کیں۔ اس موقع پر ماحولیات کے تحفظ، پانی کے وسائل کے بہتر استعمال، شجرکاری، صفائی کے نظام اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔صوبائی مشیر نسیم الرحمن خان ملاخیل نے وفود کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل اور تجاویز کو غور سے سنتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے اور متعلقہ محکموں کے ساتھ رابطہ کرکے ان کے ازالے کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات بہت جلد مزید بہتر ہوں گے اور موجودہ صوبائی حکومت عوامی فلاح، سیاسی استحکام، امن و امان اور صوبے کی ہمہ جہت ترقی کے لیے پوری تندہی اور سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور بلوچستان میں پائیدار امن کا قیام ہے۔صوبائی مشیر نے کہا کہ بلوچستان کو خشک سالی، کم بارشوں اور موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا رہا ہے تاہم انہوں نے زور دیا کہ پانی کے وسائل کا محتاط اور دانشمندانہ استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔نسیم الرحمن خان ملاخیل نے کہا کہ حکومت بلوچستان ماحول دوست پالیسیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنا رہی ہے تاکہ قدرتی وسائل کا تحفظ، ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور موسمیاتی خطرات سے موثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی ہے جبکہ ہسپتالوں کے فضلات کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کے لیے جدید انسینیریشن یونٹس کو بھی فعال بنایا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شہری علاقوں میں صفائی اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کو بہتر بنانے، فضلے کی علیحدگی، ری سائیکلنگ، ڈمپنگ سائٹس کی اپ گریڈیشن اور شجرکاری مہمات کو مزید موثر بنانے کے لیے بھی عملی اقدامات جاری ہیں تاکہ ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔صوبائی مشیر نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کے ساتھ ساتھ عوام، سماجی تنظیموں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا تعاون بھی ناگزیر ہے۔

انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ماحول دوست طرزِ زندگی اپنائیں، پانی کے ضیاع سے گریز کریں، پلاسٹک کے استعمال میں کمی لائیں اور شجرکاری مہمات میں بھرپور حصہ لے کر بلوچستان کو سرسبز، صاف ستھرا اور موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ملاقات کے اختتام پر وفود نے صوبائی مشیر نسیم الرحمن ملاخیل کی جانب سے عوامی مسائل کے حل، ماحولیاتی تحفظ اور بلوچستان کی ترقی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت کی موجودہ پالیسیوں کے مثبت نتائج جلد عوام تک پہنچیں گے۔

 

مزید خبریں