"سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ شہدا کی تضحیک کسی صورت قابلِ قبول نہیں، قومی اداروں اور شہدا کے احترام پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا، جبکہ مولانا فضل الرحمن کو اپنے بیان پر پوری قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔”
افواجِ پاکستان کی توہین چاہے الفاظ سے ہو یا کسی عمل کے ذریعے، ناقابلِ برداشت ہے، سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خاں کا پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
لاہور۔15جولائی (اے پی پی):سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا ہے کہ شہدا کی تضحیک کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور اس معاملے پر مولانا فضل الرحمن کو پوری قوم سے معافی مانگنی چاہیے،سیاسی اختلافات اپنی جگہ،مگر قومی اداروں اور شہدا کے احترام پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔
پنجاب اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) ایک بڑی سیاسی قوت ہے،تاہم مولانا فضل الرحمن کے حالیہ بیان سے انہیں شدید اختلاف ہے اور عوام کی ایک بڑی تعداد بھی اس موقف سے اتفاق نہیں کرتی۔ ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ افواجِ پاکستان کی توہین چاہے الفاظ سے ہو یا کسی عمل کے ذریعے،ناقابلِ برداشت ہے ۔ فوج کے جوانوں کی قربانیاں اور اعزازات پوری قوم کا فخر اور سرمایہ ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت یا رہنما کو قومی جذبات اور حساس معاملات کا خیال رکھنا چاہیے۔ریاستی اداروں کے کردار پر بحث ہو سکتی ہے،لیکن قومی سلامتی کے معاملات پر ذمہ داری اور احتیاط کا مظاہرہ ناگزیر ہے۔اگر کوئی شخص یا گروہ دہشت گردی کا راستہ اختیار کر چکا ہو تو ریاست کیلئے اس سے مذاکرات کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے عناصر کا نظریہ صرف موت بانٹنا ہے اور ماضی میں ان سے مذاکرات میں پہلے ہی بہت وقت ضائع کیا جا چکا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو دہشت گرد معصوم شہریوں،عدالتوں، عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں اور قومی تنصیبات کو نشانہ بناتے رہے ہوں،ان سے مزید کس بنیاد پر بات کی جا سکتی ہے۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ بی ایل اے کے ٹرین حملے سمیت مختلف دہشت گردی کے واقعات کے بعد،سامنے آنے والے شواہد کے بعد مذاکرات کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔انہوں نے کہا کہ کیا دہشت گردوں کو دوبارہ پیش قدمی کی اجازت دی جائے؟ کیا انہیں دوبارہ آرمی پبلک اسکول، لاہور ہائی کورٹ یا داتا دربار جیسے حملوں کا موقع فراہم کیا جائے؟انہوں نے واضح کیا کہ صرف ان لوگوں سے بات چیت ماضی میں کی جا چکی ہے جو سیاسی بات کرنا چاہتے تھے، لیکن جو ہتھیار اٹھا چکے ہوں،ان کے ساتھ ریاستی مذاکرات درست نہیں۔سپیکر ملک محمد احمد خاں نے پرویز الہی،متحدہ مجلس عمل اور ماضی کی سیاسی جماعتوں کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ادوار میں سیاسی جماعتوں کے موقف تبدیل ہوتے رہے ہیں،اس لیے سیاسی بیانات میں تسلسل اور ذمہ داری ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ کہے کہ پاکستان کی حفاظت پر مامور جوان صرف تنخواہ کیلئے خدمات انجام دیتے ہیں تو یہ شہدا اور قومی جذبات کی توہین ہے۔ایسے بیانات نہ صرف افسوسناک ہیں بلکہ قومی مفاد کے بھی منافی ہیں۔سپیکر نے کہا کہ2014 کے دھرنے کی بنیاد انتخابی عمل پر اعتراضات اور4 حلقوں کی تحقیقات کا مطالبہ تھا۔بعد ازاں عدالتی فیصلوں میں بعض انتخابی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ضرور ہوئی،تاہم انہیں منظم دھاندلی قرار نہیں دیا گیا۔سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ آر ٹی ایس، فارم45 اور فارم47 سے متعلق اعتراضات کے حل کیلئے پارلیمانی اور قانونی فورمز کو موثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا تھا،مگر ایسا نہیں کیا گیا۔انکے مطابق انتخابی معاملات پر احتجاج کے باوجود آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرنا ہی جمہوری روایت ہے۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ عالمی حالات کے تناظر میں قومی معاملات پر سنجیدگی،ذمہ داری اور اتحاد کا مظاہرہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان کی سفارتی کامیابیوں،امن کے اقدامات اور دہشتگردی کیخلاف ریاستی موقف کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے،جبکہ سیاسی اختلافات کے باوجود قومی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔شہدا کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ شہدا کی قربانیوں کو پوری قوم قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور شہدا کے اہلِخانہ کے جذبات کا احترام ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے،کیونکہ ایک شہید کی قربانی پوری قوم کے امن اور سلامتی کی ضمانت بنتی ہے۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ انتخابی اعتراضات کا حل سڑکوں کے بجائے آئینی اور قانونی فورمز، خصوصا الیکشن ٹریبونلز کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔چند انتخابی درخواستوں یا تنازعات کی بنیاد پر پورے انتخابی نظام کو متنازع قرار دینا مناسب نہیں۔ انھوں نے زور دیا کہ انتخابات پر عوام کا اعتماد بحال رکھنے کیلئے شفاف نظام اور تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان اس امر پر اتفاق ضروری ہے کہ انتخابی نتائج کو کس آئینی طریقہ کار کے تحت تسلیم یا چیلنج کیا جائے۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات اور گمراہ کن بیانیے قومی مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں،اس لیے قومی معاملات پر گفتگو ہمیشہ حقائق، ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ ہونی چاہیے۔آخر میں انھوں نے کہا کہ پاکستان کو مغربی سرحد،بلوچستان اور دہشتگردی سمیت متعدد سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے،جن سے نمٹنے کیلئے ریاستی اداروں اور عوام کا متحد ہونا ناگزیر ہے۔دہشت گردی کے الزامات اور ریاستی موقف میں فرق کو سمجھنا ضروری ہے،جبکہ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بے مثالی قربانیاں دی ہیں،جنہیں کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔سیاسی بیانیوں سے بڑھ کر قومی اداروں،افواجِ پاکستان اور شہدا کے وقار کا تحفظ ہی قومی مفاد کا تقاضا ہے۔








