"خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دیرینہ دوستی مستقبل میں مزید مضبوط ہوگی، جبکہ دونوں ممالک باہمی مفاد، تعاون اور مشترکہ ترقی کے لیے مختلف شعبوں میں روابط کو فروغ دیں گے۔”
پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دوستی مستقبل میں مزید مستحکم ہوگی ، دونوں ممالک باہمی مفاد کے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دیں گےخاتون اول بی بی آصفہ بھٹو

مزید خبریں
کراچی۔15جولائی (اے پی پی):خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دوستی مستقبل میں مزید مستحکم ہوگی اور دونوں ممالک اپنے عوام کے باہمی مفاد کے لیے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔
خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری سے انڈونیشیا کے پاکستان میں سفیر چندرا وارسینانتو سوکوتجو نے بلاول ہائوس کراچی میں ملاقات کی۔ اس موقع پر سفیر کی اہلیہ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔خاتون اول نے سفیر اور ان کی اہلیہ کو کراچی آمد پر خوش آمدید کہا، کراچی میں پاکستان۔انڈونیشیا سرمایہ کاری فورم کے کامیاب انعقاد پر انہیں مبارکباد دی اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا۔بدھ کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دیرینہ اور دوستانہ تعلقات باہمی احترام، مشترکہ اقدار اور قریبی تعاون پر استوار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کی حمایت کی ہے اور خطے سمیت عالمی سطح پر امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مل کر کام کیا ہے۔ دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے خاتون اول نے کہا کہ انڈونیشیا کے بانی صدر ڈاکٹر آئر سوکارنو کے ان کے نانا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ نہایت قریبی ذاتی تعلقات تھے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنما نوآزاد ممالک کے وقار، ایشیائی یکجہتی اور ایک زیادہ منصفانہ عالمی نظام کے قیام کے مشترکہ عزم سے وابستہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی دوستی نے پاکستان اور انڈونیشیا کے تعلقات میں مزید گرمجوشی اور گہرائی پیدا کی جو آج بھی دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے لیے باعث تحریک ہے۔ملاقات کے دوران دونوں جانب سے تجارت و سرمایہ کاری، زراعت، تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی کی منتقلی، ویکسین کی تیاری، خواتین کی کاروباری سرگرمیوں ، سیاحت، ثقافتی تبادلوں اور عوامی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے زرعی تعاون کے فروغ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیا پاکستان، خصوصاً سندھ میں پیدا ہونے والے اعلیٰ معیار کے چاول کی برآمدات کے لیے ایک اہم منڈی ہے۔ انہوں نے حکومتوں کے درمیان چاول کے شعبے میں تعاون کے فریم ورک کی بحالی کی جاری کوششوں کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ اس سے زرعی تعاون مزید مستحکم ہوگا اور کسانوں و برآمدکنندگان کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے پام آئل اور دیگر زرعی اجناس میں مسلسل تعاون کی اہمیت کو بھی دونوں ممالک کے باہمی مفاد کے لیے ضروری قرار دیا۔مستقبل میں تعاون کے امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے خاتون اول نے کہا کہ زراعت، غذائی تحفظ، خواتین کی قیادت میں کاروباری سرگرمیاں، تعلیم اور عوامی روابط کے فروغ کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے خاندانی منصوبہ بندی اور آبادی کے انتظام کے حوالے سے انڈونیشیا کے کامیاب تجربات سے استفادہ کرنے میں بھی دلچسپی ظاہر کی جبکہ صحت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، ویکسین کی تیاری اور پاکستان میں پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے جاری کوششوں میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔انڈونیشیا کے سفیر نے خاتون اول کو سندھ کے مختلف علاقوں کے اپنے حالیہ دورے سے آگاہ کیا اور صوبے کی زرعی، اقتصادی اور سرمایہ کاری کی صلاحیتوں کے بارے میں اپنے مثبت تاثرات کا اظہار کیا۔ انہوں نے تجارت، زراعت، پام آئل، چاول، سرمایہ کاری، صحت اور ثقافتی تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے انڈونیشیا کے عزم کا اعادہ کیا۔سفیر نے اس موقع پر خاتونِ اول کو ایک یادگاری اشاعت بھی پیش کی جس میں معلوماتی خاکوں (انفوگرافکس) اور تاریخی ٹائم لائنز کے ذریعے پاکستان اور انڈونیشیا کے تعلقات کے ارتقاء کو پیش کیا گیا ہے۔خاتون اول نے سفیر سے کہا کہ وہ حکومت انڈونیشیا اور وہاں کے عوام کے لیے ان کی نیک تمنائیں اور پرتپاک خیرسگالی کا پیغام پہنچائیں۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دوستی مستقبل میں مزید مستحکم ہوگی اور دونوں ممالک اپنے عوام کے باہمی مفاد کے لیے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔








