"وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ نے ازبکستان کے نائب وزیراعظم جمشید خوجایف کے متوقع دورۂ پاکستان کی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔”
وفاقی وزیر احد چیمہ کی زیرصدارت ازبک نائب وزیراعظم کے دورہ پاکستان کی تیاریوں بارے جائزہ اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ نے ازبکستان کے نائب وزیراعظم جمشید خوجایف کے 20 تا 21 جولائی 2026 کو متوقع دورہ پاکستان کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں مختلف وزارتوں کے درمیان رابطہ کاری اور انتظامات کو حتمی شکل دی گئی تاکہ اس اہم دورے کو کامیاب بنایا جا سکے جس سے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔
منگل کو وزارت اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ، سیکرٹری تجارت جواد پال، سیکرٹری ریلوے، ڈائریکٹر جنرل نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی)، وزارت مواصلات کے سینئر حکام اور دیگر متعلقہ وزارتوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ شرکا نے وفاقی وزیر کو دورے کے ایجنڈے اور مجوزہ سرگرمیوں سے متعلق پیش رفت پر بریفنگ دی۔اجلاس میں علاقائی روابط کے فروغ اور تجارتی سہولت کاری کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ سیکرٹری ریلوے، ڈائریکٹر جنرل این ایل سی اور وزارت مواصلات کے حکام نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارتی راستوں کی استعداد اور موثریت بڑھانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔ سڑک اور ریل رابطوں میں بہتری، ٹرانسپورٹ کوریڈورز کی ترقی اور لاجسٹکس انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے پر تفصیلی غور کیا گیا تاکہ سامان کی تیز، کم لاگت اور موثر تر نقل و حمل کو ممکن بنایا جا سکے اور علاقائی تجارت کو فروغ ملے۔وفاقی وزیر کو آگاہ کیا گیا کہ دورے کے دوران بزنس ٹو بزنس فورم کا انعقاد بھی کیا جائے گا جس میں دونوں ممالک کے ممتاز نجی شعبے کے نمائندگان شرکت کریں گے۔ فورم میں ازبکستان کی 100 سے زائد کمپنیوں کی شرکت متوقع ہے جو پاکستان میں سرمایہ کاری، تجارت اور مشترکہ منصوبوں کے مواقع میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ زراعت، ادویہ سازی، صنعت، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور دیگر ترجیحی شعبے سرمایہ کاری اور تجارتی مذاکرات کا مرکز ہوں گے جبکہ دونوں حکومتیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس کو فروغ دینے اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں۔تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر احد چیمہ نے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دورے کے دوران پانچ سالہ تجارتی و اقتصادی تعاون کے روڈ میپ پر دستخط کیے جائیں گے جو آئندہ برسوں میں دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی روابط اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرے گا۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ متعدد مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر اتفاق رائے ہو چکا ہے، جن پر دورے کے دوران دستخط متوقع ہیں۔ ان معاہدوں کا مقصد مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا اور باہمی اقتصادی ترقی کے لیے نئی راہیں ہموار کرنا ہے۔ وفاقی وزیر احد چیمہ نے تمام متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی رابطہ کاری کو مزید موثر بناتے ہوئے تمام انتظامات بروقت مکمل کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ دورہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنے، علاقائی روابط کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کے وسیع تجارتی امکانات سے بھرپور استفادہ کرنے کا ایک قیمتی موقع ہے۔








