"وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ زراعت اور لائیو سٹاک ملکی معیشت کی ترقی کے لیے کلیدی شعبے ہیں، جبکہ وفاق رواں سال ایک ہزار مزید فریش گریجویٹس کو جدید زرعی تربیت کے لیے چین بھیجے گا تاکہ جدید ٹیکنالوجی اور مہارتوں سے استفادہ کیا جا سکے۔”
زراعت و لائیو سٹاک کا شعبہ ملکی معیشت کی ترقی کیلئے کلیدی اہمیت کا حامل ہے، وفاق رواں سال ایک ہزار مزید فریش گریجوایٹس کو جدید تربیت کیلئے چین بھجوائے گا، وزیراعظم محمد شہباز شریف کا لائیو سٹاک کی استعداد کے حوالے سے قومی سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے زراعت و لائیو سٹاک کو ملکی معیشت کی ترقی کیلئے کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق رواں سال ایک ہزار مزید فریش گریجوایٹس کو جدید تربیت کیلئے چین بھجوائے گا، زراعت و لائیو سٹاک کے شعبہ کی استعداد سے مکمل استفادہ نہیں کیا جارہا، زرعی تحقیق و تربیت کے ادارے مردہ گھوڑے بن چکے ، منہ کھر کی بیماری کی ویکسین کیلئے درکار فنڈز حکومت فراہم کرے گی، اے آئی، آئی ٹی سمیت جدید ٹیکنالوجی اور جدت سے زراعت و لائیو سٹاک میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے اور پاکستان ایک سال میں خوشحال و خود کفیل ہو سکتا ہے ۔
وہ بدھ کو یہاں پاکستان میں لائیو سٹاک کی استعداد کے حوالے سے قومی سیمینار سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر وفاقی وزراء، ارکان اسمبلی اور زراعت و لائیو سٹاک کے شعبے کے ماہرین اور متعلقہ حکام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں لائیو سٹاک کی ترقی کیلئے کاوشیں لائق تحسین ہیں لیکن یہ طویل سفر ہے جسے وفاق اور صوبوں کو مل کر طے کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اب باتوں کی نہیں عملی اقدامات اور کام کی ضرورت ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو زرخیز زمین، پانی، پہاڑ دریا سمیت بہترین وسائل سے مالامال کیا، ہمارے کسان محنتی اور جفاکش ہیں۔ جدید آلات و مشینری کا استعمال نہ کرنے کی وجہ سے ہم خطے کے ممالک سے بہت پیچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے لیکن ویلیو ایڈیشن نہ ہونے سے گوشت و دودھ کی پیداوار کے شعبے کی صلاحیت سے بھرپور استفادہ نہیں کیا جارہا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین پاکستان کا قابل اعتماد دوست ہے، وہ اس شعبے میں چین کی ترقی دیکھ کر حیران رہ گئے ۔ انہوں نے پاکستان میں زرعی تحقیق کے اداروں کی کارکردگی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ مردہ گھوڑے بن چکے ہیں، ان کے حالات دیکھ کر دل کڑھتا ہے لیکن حکومت ان کی مکمل ٹرانسفارمیشن کر رہی ہے ۔ اگرچہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد زراعت و لائیو سٹاک صوبائی دائرہ کار میں ہے لیکن وفاق اور صوبوں کو مل کر اقدامات کرنا ہوں گے۔ وفاق اور صوبوں کو اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی ۔ زراعت و لائیو سٹاک کے شعبے کو ترقی دے کر ایک سال میں معیشت کو بحال کیا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم نے منہ کھر کی بیماری کے حوالے سے اقدامات و ویکسین کی تیاری کیلئے ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وفاق اس کیلئے ضروری فنڈز فراہم کرے گا لیکن اسے پروفیشنلز چلائیں گے ورنہ پی اے آر سی جیسا حشر ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ منہ کھر کی بیماری پر قابو پانے تک لائیو سٹاک کی برآمدات کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وفاق نے جس طرح پہلے گلگت بلتستان و آزاد کشمیر سمیت ملک بھر سے ایک ہزار فریش زرعی گریجوایٹس کو جدید تربیت کیلئے چین بھجوایا اسی طرح رواں سال بھی مزید ایک ہزار گریجوایٹس کو بھجوایا جائے گا۔ وزیراعظم نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس عمل میں بھی سفارشوں پر لوگوں کو بھجوانے کی کوشش کی گئی ، یہ قوم کا پیسہ ہے، میرٹ پر زرعی گریجوایٹس کا انتخاب کیا جائے گا۔ وسائل حقداروں پر خرچ کرنا ہوں گے۔ چین بھجوائے گئے گریجوایٹس کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کرائی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ زراعت و لائیو سٹاک میں جدت لا کر ملک کو ترقی و خوشحالی اور معیشت کو بحال کیا جا سکتا ہے ۔ اے آئی، آئی ٹی سمیت جدید ٹیکنالوجی اور جدت سے زراعت و لائیو سٹاک میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے ۔ وفاق و صوبوں کو مل کر کام کرنے کا عہد کرنا ہوگا، اسی طرح پاکستان خودکفیل و خوشحال ہوسکتا ہے ۔ قبل ازیں وزیراعظم نے لیپ ٹاپ کے ذریعے گرین کارپوریٹ لائیو سٹاک انیشی ایٹو کے پروگرام کا افتتاح کیا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی و ریسرچ رانا تنویر حسین نے کہا کہ وزیراعظم لائیو سٹاک کے شعبے کی ترقی میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں،سیمینار کا مقصد لائیو سٹاک کے شعبے میں جدت کا فروغ ہے،وزیراعظم نے ایک ہزار زرعی گریجوایٹس کو جدید ٹیکنالوجی کی تربیت کے لیے چین بھجوایا،وزیراعظم کی ہدایت پر چین کے ادارے کے ساتھ اشتراک کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ نیشنل سیڈ پالیسی سرٹیفائیڈ بیجوں کے لیے ضروری ہے۔کوآرڈینیٹر لائیو سٹاک و غذائی تحفظ احمد عمیر نے کہا کہ لائیو سٹاک کا شعبہ ملکی معاشی ترقی میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، پیداوار میں اضافے کے لیے صحت مند جانور ہمارا مقصد ہے تاکہ گوشت کی زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے۔ سی ای او گرین کارپوریٹ لائیو سٹاک انیشیٹو بریگیڈئر(ر)احتشام یونس نے کہا کہ لائیو سٹاک ملک کی جی ڈی پی کا اہم حصہ ہے،پاکستان دودھ کے پیداوار کے حوالے سے چوتھا بڑا ملک ہے،جانوروں کی بہتر صحت پاکستان میں اہم چیلنج ہے۔








