"وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی سے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سیکرٹری جنرل نورلان یرمیکبایف نے ملاقات کی، جس میں ثقافتی تعاون، ورثے کے تحفظ اور علاقائی روابط کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔”
وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی سے شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل نورلان یرمیکبایف کی ملاقات، ثقافتی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی سے بدھ کے روز وزارت قومی ورثہ و ثقافت میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سیکرٹری جنرل نورلان یرمیکبایف نے ملاقات کی۔
ملاقات میں ثقافتی تعاون کے فروغ، عوامی روابط کے استحکام اور 2027ء میں پاکستان کی متوقع ایس سی او چیئرمین شپ کی تیاریوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر نے سیکرٹری جنرل اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور شنگھائی تعاون تنظیم کے مقاصد اور اصولوں کے لیے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ثقافت امن، مکالمے اور باہمی ہم آہنگی کا موثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے وادی سندھ کی تہذیب، گندھارا تہذیب، بدھ مت کے تاریخی ورثے، اسلامی طرزِ تعمیر اور پاکستان کی متنوع غیر مادی ثقافتی روایات کو ملک کا قیمتی اثاثہ قرار دیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان شنگھائی اسپرٹ کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے اور ثقافتی سفارت کاری خطے میں امن، ہم آہنگی اور تعاون کے فروغ کا موثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے آثار قدیمہ، عجائب گھروں، ثقافتی ورثے کے تحفظ، ثقافتی سیاحت، تخلیقی صنعتوں، دستکاری، فنون لطیفہ اور نوجوانوں کے ثقافتی تبادلوں کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان 2027ء میں ایس سی او کی چیئرمین شپ سنبھالنے اور ایس سی او وزرائے ثقافت کے 24ویں اجلاس کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ لاہور کو 2026-27 کے لیے ایس سی او ٹورازم اینڈ کلچرل کیپیٹل قرار دینے کی تجویز زیر غور ہے جس کے تحت لاہور میں سال بھر ثقافتی سرگرمیوں کا جامع کیلنڈر ترتیب دیا جا رہا ہے جبکہ اسلام آباد اور کراچی میں بھی اہم ثقافتی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔انہوں نے سیکرٹری جنرل کو آگاہ کیا کہ لاہور میں چار بڑے ثقافتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے جن کے ساتھ سال بھر مختلف نوعیت کی تقریبات بھی جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود ایس سی او رکن ممالک کے سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو ثقافتی پرفارمنس، نمائشوں اور ثقافتی وفود کے ذریعے ان سرگرمیوں میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔وفاقی وزیر نے سیکرٹری جنرل اور تمام رکن ممالک کو نومبر 2026ء میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے سالانہ لوک ورثہ لوک میلے میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ میلہ ایس سی او ممالک کی دستکاری، لوک موسیقی، روایتی فنون اور ثقافتی تنوع کو اجاگر کرنے کا بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔ انہوں نے تجویز دی کہ میلے کا ایک خصوصی حصہ ’’شنگھائی سپرٹ‘‘ اور علاقائی ثقافتی تعاون کے نام سے منسوب کیا جائے۔ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے ایس سی او رکن ممالک کے درمیان ثقافتی تعاون کو ادارہ جاتی بنیادوں پر فروغ دینے کے لیے متعدد تجاویز پیش کیں جن میں ایس سی او میوزیم تعاون نیٹ ورک، ایس سی او آثار قدیمہ تعاون پروگرام، ایس سی او ڈیجیٹل ہیریٹیج پلیٹ فارم، ایس سی او یوتھ کلچرل ایکسچینج پروگرام اور گندھارا و شاہراہ ریشم کے ثقافتی ورثے پر مبنی ایس سی او ہیریٹیج ٹورازم اقدام شامل ہیں۔ انہوں نے مشترکہ آثار قدیمہ کی تحقیق، ثقافتی ورثے کی ڈیجیٹل دستاویز سازی اور عجائب گھروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔سیکرٹری جنرل نورلان یرمیکبایف نے وفاقی وزیر کو ایس سی او کے بدلتے ہوئے ایجنڈے سے آگاہ کیا اور ثقافت، سیاحت، تجارت اور عوامی روابط کے شعبوں میں تنظیم کے بڑھتے ہوئے تعاون پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پاکستان کی آئندہ چیئرمین شپ کے لیے ایس سی او سیکرٹریٹ کی مکمل حمایت کا یقین دلایا اور پاکستان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے نئی اور موثر تجاویز پیش کرے۔انہوں نے لاہور میں مجوزہ ثقافتی پروگراموں کی تیاریوں کو سراہتے ہوئے پاکستان کے فعال کردار کی تعریف کی اور ایس سی او کے پلیٹ فارم کے تحت فلم فیسٹیول، دستکاری کی نمائشوں، موسیقی کے میلوں اور ثقافتی فورمز کے انعقاد کی تجویز دی۔ انہوں نے پاکستان کو 18 تا 22 اکتوبر 2026ء چین میں منعقد ہونے والی خصوصی ایس سی او ثقافتی نمائش میں شرکت کی بھی دعوت دی جہاں رکن ممالک اپنی ثقافتی روایات اور دستکاری کی نمائش کریں گے۔سیکرٹری جنرل نے سیاحت کے شعبے میں بھی علاقائی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایس سی او ممالک اور ڈائیلاگ پارٹنرز کے سیاحتی اداروں اور ٹریول ایجنسیوں کے درمیان روابط بڑھانے سے خطے میں امن، باہمی اعتماد اور پائیدار ترقی کو مزید فروغ ملے گا۔وفاقی سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن نے وفاقی وزیر کے وژن پر عمل درآمد کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ایس سی او سے متعلق ثقافتی سرگرمیوں کی تیاریاں شروع کی جا چکی ہیں اور جلد ہی بین الوزارتی رابطہ اجلاس منعقد کیا جائے گا تاکہ تمام انتظامات کو حتمی شکل دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ثقافت امن، باہمی احترام اور پائیدار علاقائی تعاون کے فروغ کا ایک مضبوط ذریعہ ہے۔ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے ثقافت، عجائب گھروں، آثار قدیمہ، ثقافتی ورثے کے تحفظ، سیاحت اور تخلیقی صنعتوں کے شعبوں میں ادارہ جاتی روابط، عوامی تبادلوں اور عملی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ دونوں جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کی آئندہ ایس سی او چیئرمین شپ کے دوران ثقافتی اقدامات کے کامیاب انعقاد کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا۔ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی جس میں پاکستان اور ایس سی او سیکرٹریٹ نے خطے کے مشترکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ اور تمام رکن ممالک کے مفاد میں ثقافتی شراکت داری کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ملاقات میں ایس سی او کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سہیل خان، سیکرٹریٹ کے عہدیدار مارگولان ابراہیموف اور پروٹوکول آفیسر بخرُوز صادقوف شریک ہوئے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے نیشنل کوآرڈینیٹر (ایس سی او) ڈاکٹر محمد فیصل، ڈائریکٹر (ایس سی او) اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر (ایس سی او-I) عائشہ شاہد بھی اجلاس میں موجود تھیں۔








