نیب قانون ترمیم کیس ، ضمانت درخواستوں پر سپریم کورٹ کے اختیار سے متعلق فیصلہ محفوظ

سپریم کورٹ نے نیب قانون ترمیم کیس میں ضمانت درخواستوں کی سماعت کے اختیار سے متعلق اہم قانونی نکتے پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

اسلام آباد۔16جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے نیب قانون ترمیم کیس میں ضمانت درخواستوں کی سماعت کے اختیار سے متعلق اہم قانونی نکتے پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے موقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ کے حتمی فیصلے کے خلاف اپیل وفاقی آئینی عدالت میں جائے گی تاہم اگر ہائی کورٹ سے ضمانت نہ ملے تو اس معاملے کی سماعت سپریم کورٹ کرے گی۔ انہوں نے استدلال دیا کہ نیب آرڈیننس کی دفعہ 32 کا اطلاق ضمانت کے مقدمات پر نہیں ہوتا۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر ملزم کو ضمانت دی جائے تو کیا درخواست کو اپیل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ ضمانت کی درخواست کو اپیل میں تبدیل کرے تو وہ خود اپیلیٹ فورم بن جائے گی جبکہ نیب قانون کے مطابق اپیلیٹ فورم وفاقی آئینی عدالت ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے مزید کہا کہ یہ واضح کیا جائے کہ ضمانت کے مقدمات میں سپریم کورٹ اپیلیٹ اتھارٹی کیسے بن سکتی ہے اور اس ضمن میں کوئی قانونی راستہ عدالت کے سامنے رکھا جائے۔اس موقع پر وکیل عباد الرحمان لودھی نے موقف اختیار کیا کہ خدا کے لیے انتظامیہ کے خفیہ مقاصد کے لیے عدالت اپنا اختیار سرنڈر نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا کوئی اختیار تو برقرار رہنے دیا جائے اور قانون نے ضمانت کے مقدمات سننے کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو نہیں دیا۔فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے معاملے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

مزید خبریں