ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات ایمان، اعتماد اور مشترکہ ترقی کے مضبوط رشتے پر قائم ہیں۔
پاک سعودی تجارتی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے وژن 2030 اہم سنگ میل ہے، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔17جولائی (اے پی پی):ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات ایمان، اعتماد اور مشترکہ ترقی کے مضبوط رشتے پر قائم ہیں۔
سعودی وژن 2030 نے عالمی سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے فروغ کے نئے دروازے کھولے ہیں، جن سے پاکستانی کاروباری برادری بھرپور فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے الراعی گروپ کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ ’’سعودی کمپنی فارمیشن اور بزنس ایکسٹینشن سمٹ 2026‘‘ میں بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے الراعی گروپ اور مملکتِ سعودی عرب کو شاندار سمٹ کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یہ تقریب معاشی روابط کو بہتر بنانے اور باہمی تجارت و سرمایہ کاری کو نئی جہت دینے کی اہم کاوش ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سینیٹ اور حکومتِ پاکستان معاشی ترقی، روزگار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گی۔
الراعی گروپ کے چیئرمین بلال ایم زبیر نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سعودی عرب کی کاروباری دوست پالیسیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ وژن 2030 کے تحت سعودی عرب غیر ملکی کمپنیوں کو 100 فیصد مالکانہ حقوق، آسان بینکنگ چینلز اور بغیر کسی کم از کم سرمائے کی شرط کے بہترین کاروباری ماحول فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی کوئی بھی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی یا پارٹنرشپ فرم، جو کم از کم ایک سال سے فعال ہو، مطلوبہ دستاویزات (سرٹیفکیٹ آف ان کارپوریشن اور آڈٹ رپورٹ) فراہم کر کے سعودی عرب کی تیز رفتاری سے ترقی کرتی معیشت کا حصہ بن سکتی ہے۔
صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے نجی شعبے کے روابط کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے پاک۔سعودی تجارتی تعلقات میں الراعی گروپ کے تعمیری کردار کو سراہا۔ سمٹ میں پاکستان کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی 12 ممتاز کمپنیوں کے سربراہان اور سعودی عرب کے الراعی گروپ کے مابین مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت یہ کمپنیاں سعودی عرب میں سرمایہ کاری اور اپنے کاروبار کا آغاز کریں گی۔ سرمایہ کاری کے اس اہم سنگِ میل کے ساتھ یہ سمٹ دونوں برادر ممالک کے درمیان طویل المدتی معاشی تعلقات کی مضبوط بنیاد ثابت ہوئی۔سمٹ میں سفارت کاروں، سرمایہ کاروں اور مختلف ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔








