اوگرا اب روزانہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر اور ویب سائٹ پر جاری کرے گی، ہماری قیادت نے خطے کی صورتحال میں بہتری کے لئےکامیاب کوششیں کیں، وفاقی وزیرِ علی پرویز ملک

وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اوگرا روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کرے، اوگرا روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں ویب سائٹ پر شائع کرے گی ، ہماری قیادت نے خطے کی صورتحال میں بہتری کے لئےکامیاب کوششیں کیں، عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت 110 ڈالر سے بڑھ کر 140 ڈالر تک پہنچ …

اسلام آباد۔17جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اوگرا روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کرے، اوگرا روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں ویب سائٹ پر شائع کرے گی ، ہماری قیادت نے خطے کی صورتحال میں بہتری کے لئےکامیاب کوششیں کیں، عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت 110 ڈالر سے بڑھ کر 140 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے ، وفاق نے پٹرولیم قیمتوں میں سبسڈی کے لئے 130 ارب ڈالر خرچ کئے ،پٹرولیم قیمتوں پر سبسڈی کا پروگرام آج بھی جاری ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے ہمراہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر پٹرولیم نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پہلے جنگ بندی اور پھر مستقل امن کے لئے بھرپور کوششیں کیں تاہم موجودہ صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، بین الاقوامی منڈی میں ڈیزل کاپلیٹس ریٹ تقریباً 110 ڈالر سے بڑھ کر 140 ڈالر جبکہ پٹرول کا پلیٹس ریٹ تقریباً 89 ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر تک پہنچ چکا ہےجس کے باعث توانائی کی قیمتیں دوبارہ بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کی مشکلات سے پوری طرح آگاہ ہے اور وزیراعظم شہبازشریف کی ہدایت پر وفاقی حکومت نے تقریباً 130 ارب روپے کے وسائل بروئے کار لا کر عوام کو سہارا دینے کی کوشش کی جبکہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ کےتعاون سے ٹارگٹڈ سبسڈی کا پروگرام بھی کئی سو ارب روپے کی سطح پر آج بھی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام میں شفافیت لانے کا فیصلہ کیا ہے جس کےتحت اب اوگرا روزانہ کی بنیاد پر بین الاقوامی منڈی کے مطابق قیمتوں کا تعین کرے گا۔

اوگرا نہ صرف پلیٹس ریٹ اپنی ویب سائٹ پر شائع کرے گا بلکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں شامل تمام عناصر بھی عوام کے سامنے پیش کرے گا تاکہ شہری خود جان سکیں کہ قیمتوں میں ردوبدل کن عوامل کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے اور یہ فیصلے کیوں ناگزیر ہوتے ہیں۔ علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت عوام سے کئے گئے اپنے وعدے پر قائم ہے اور بین الاقوامی منڈی میں قیمتوں میں کمی آنے پر اس کا فائدہ عوام کو منتقل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت 520 روپے سے کم ہو کر تقریباً 300 روپے کے دائرے میں آ چکی ہے جبکہ پٹرول کی قیمت میں بھی تقریباً 70 سے 80 روپے تک کمی عوام کو منتقل کی گئی۔انہوں نے واضح کیا کہ لیوی کے حوالے سے بین الاقوامی معاہدوں سے بڑھ کر عوام پر کوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا گیا اور 27 اور 28 فروری کی سطح کے مقابلے میں موجودہ لیوی بھی اس سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک جانب شفافیت کو فروغ دے رہی ہے جبکہ دوسری جانب ان ڈائریکٹ ٹیکسیشن کے بوجھ میں کمی کے لئے بھی اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت قیمتوں کے تعین کے نظام سے اپنا کردار محدود کرتے ہوئے ریگولیٹر کو مؤثر کردار دے رہی ہے تاکہ صارفین، حکومت اور آئل سیکٹر کے تمام شراکت داروں کے مفادات میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ جس شعبے میں حکومت نے اپنا کردار محدود کیاوہاں عوام کے لئے بہتری آئی ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ آئندہ سات ورکنگ ڈیز کے پلیٹس ریٹ کی اوسط کی بنیاد پر روزانہ قیمتوں کا تعین کیا جائے گا تاکہ بین الاقوامی منڈی میں قیمتوں میں اضافے یا کمی کا اثر فوری طور پر عوام تک منتقل ہو سکے۔ انہوں نے اسے پٹرولیم سیکٹر کی ڈی ریگولیشن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔علی پرویز ملک نےکہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ان کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی پٹرولیم سیکٹر کی ڈی ریگولیشن، انرجی پرائسنگ اور انرجی سکیورٹی آرکیٹیکچر پر کام کر رہی ہےجس کے چار اجلاس ہو چکے ہیں جبکہ آئندہ 15 سے 20 روز میں سفارشات مکمل کر کے عوام کے سامنے پیش کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے انہیں پاکستان کے انرجی سکیورٹی آرکیٹیکچر پر کام کی ذمہ داری سونپی ہے، اس سلسلے میں سٹریٹجک پٹرولیم ریزرو کے قیام کے لئے بین الاقوامی شہرت یافتہ کنسلٹنٹس کے ذریعےمطالعاتی کام شروع کر دیا گیا ہے تاکہ اس بارے میں فیصلہ کیا جا سکے کہ آیا حکومت پانچ سال کے عرصے میں 500 ملین سے ایک ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کر کے آئندہ نسلوں کے لئے سٹریٹجک پٹرولیم ذخائر قائم کر سکتی ہے یا نہیں۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ کمرشل بانڈڈ سکیم کے تحت سعودی آرامکو، کویت پٹرولیم، قطر انرجی، امریکی اور چینی کمپنیوں سمیت دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مشاورت مکمل کر لی گئی ہے تاکہ وہ اپنے تیل کے ذخائر پاکستان میں رکھ سکیں اور ہنگامی یا جنگی صورتحال میں حکومت کو ان ذخائر سے خریداری کا حق حاصل ہو۔

اس حوالے سے سمری آئندہ ہفتے وفاقی کابینہ میں پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر تیل و گیس کی دریافت بڑھانے کے لئے بھی اقدامات جاری ہیں اور ترک پٹرولیم تقریباً بیس برس بعد اکتوبر میں سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے لئے اپنا جہاز پاکستان لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرکلر ڈیٹ کے مسئلے کے حل، ای اینڈ پی کمپنیوں کو ادائیگیوں، ریفائنری اپ گریڈ پالیسی، گیس سیکٹر کی اَن بنڈلنگ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی کنسولیڈیشن اور توانائی کے شعبے کے انتظامی ڈھانچے میں بہتری پر بھی کام جاری ہے۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت محدود وسائل کے باوجود عوام پر بوجھ کم کرنے اور توانائی کے شعبے میں دیرپا اصلاحات کے لئے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ مستقبل میں ملک کی انرجی سکیورٹی مزید مضبوط ہو سکے۔انہوں نےکہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایف آئی اے، آئی بی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کوہدایت جاری کر دی ہے کہ آئل سیکٹر میں ناجائز منافع خوری کی کسی بھی کوشش کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اورقانون کے مطابق فوری اقدامات یقینی بنائے جائیں جبکہ حکومت عوام کے تحفظات کے ازالے کے لئے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔