پاکستان نے ایشین جوجٹسو چیمپئن شپ میں مجموعی طور پر 7 تمغے جیت لئے

پاکستان نے ایشین جوجٹسو چیمپئن شپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 7 تمغے جیت کر ایشیا کی بہترین انڈر16 ٹیم کا اعزاز حاصل کر لیا۔ قومی ٹیم نے چیمپئن شپ کا اختتام 2 طلائی، 3 چاندی اور 2 کانسی کے تمغوں کے ساتھ کیا، جسے ایونٹ کی تاریخ میں پاکستان کی کامیاب ترین مہمات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

لاہور۔17جولائی (اے پی پی):پاکستان نے ایشین جوجٹسو چیمپئن شپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 7 تمغے جیت کر ایشیا کی بہترین انڈر16 ٹیم کا اعزاز حاصل کر لیا۔ قومی ٹیم نے چیمپئن شپ کا اختتام 2 طلائی، 3 چاندی اور 2 کانسی کے تمغوں کے ساتھ کیا، جسے ایونٹ کی تاریخ میں پاکستان کی کامیاب ترین مہمات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔چیمپئن شپ کے آخری روز انڈر18 فائٹنگ سسٹم کے 85 کلوگرام مقابلوں میں عباد الرحمان نے بھارتی حریف کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیتا، جبکہ انڈر-21 ڈو شو سسٹم (مردوں) کے مقابلوں میں عمر یاسین اور عباد الرحمان نے عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے چاندی کے دو تمغے حاصل کیے، جس سے پاکستان کے مجموعی تمغوں کی تعداد 7 ہو گئی۔

قومی ٹیم کی مجموعی کارکردگی کے نتیجے میں پاکستان کو ایشیا کی بہترین انڈر-16 ٹیم قرار دیا گیا، جو ملک میں جوجٹسو کے فروغ اور بین الاقوامی سطح پر مسلسل بہتری کا مظہر ہے۔اختتامی تقریب اور میڈل تقسیم کی تقریب میں جنوبی ایشیائی جوجٹسو ریجنل ایسوسی ایشن اور پاکستان جوجٹسو فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل طارق علی، جبکہ قازقستان میں پاکستانی سفارت خانے کی ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کونسلر رضوانہ قاضی نے بطور مہمانانِ خصوصی شرکت کی اور قومی کھلاڑیوں کو تاریخی کامیابی پر مبارکباد دی۔پاکستان جوجٹسو فیڈریشن کے چیئرمین نے اپنے بیان میں کہا کہ سات تمغے جیتنا اور ایشیا کی بہترین انڈر16 ٹیم کا اعزاز حاصل کرنا کئی برسوں کی مسلسل محنت، منصوبہ بندی، کھلاڑیوں، کوچز اور آفیشلز کے عزم کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی پاکستان میں جوجٹسو کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔پاکستان جوجٹسو فیڈریشن کے سیکریٹری طارق علی نے کہا کہ قومی ٹیم نے پوری چیمپئن شپ کے دوران غیر معمولی نظم و ضبط، پیشہ ورانہ مہارت اور اعتماد کا مظاہرہ کیا۔ ا نہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں، کوچنگ سٹاف اور آفیشلز کی مشترکہ کاوشوں کے باعث پاکستان نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور انہیں یقین ہے کہ یہی جذبہ مستقبل میں بھی ملک کے لیے مزید بین الاقوامی اعزازات کا باعث بنے گا۔