یونیورسٹی آف کمالیہ نے ISLAH جامعات کے اشتراک سے ’’جامعات کی ڈیجیٹل تبدیلی اور مصنوعی ذہانت کے لیے تیاری‘‘ کے موضوع پر بین الاقوامی آن لائن مکالمے کا انعقاد کیا
یونیورسٹی آف کمالیہ میں مصنوعی ذہانت کی تیاری پر بین الاقوامی مکالمہ کا انعقاد

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 17 جولائی (اے پی پی):یونیورسٹی آف کمالیہ نے ISLAH جامعات کے اشتراک سے ’’جامعات کی ڈیجیٹل تبدیلی اور مصنوعی ذہانت کے لیے تیاری‘‘ کے موضوع پر بین الاقوامی آن لائن مکالمے کا انعقاد کیا۔ پہلے سیشن کا موضوع ’’اساتذہ اور طلبہ کو مصنوعی ذہانت کیلئے تیار کرنا‘‘ تھا، جس میں پاکستان، برطانیہ اور ملائیشیا سے وائس چانسلرز، ماہرین تعلیم اور مصنوعی ذہانت کے ماہرین نے شرکت کی۔ سیشن کی نظامت پروفیسر ڈاکٹر یاسر نواب، وائس چانسلر یونیورسٹی آف کمالیہ نے کی۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے لیے تیاری کو کسی ایک کورس، تربیتی ورکشاپ یا سافٹ ویئر کی خریداری تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اس مقصد کے لیے نصاب، اساتذہ کی تربیت، طلبہ کی AI خواندگی، امتحانی نظام، اخلاقی اصول، ڈیٹا کے تحفظ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر مشتمل جامع حکمتِ عملی ضروری ہے۔ مکالمے میں پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد چٹھہ، پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد بزدار، پروفیسر ڈاکٹر عاقف انور چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر عمر چوہدری، ڈاکٹر جان آرتھر، پروفیسر ڈاکٹر عاشق انجم اور پروفیسر ڈاکٹر طارق زمان نے شرکت کی۔ شرکاء نے اتفاق کیا کہ مصنوعی ذہانت تعلیمی زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ اسے انسانی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور علمی فیصلے کے متبادل کے بجائے معاون کے طور پر استعمال کیا جائے۔ پروفیسر ڈاکٹر عاشق انجم نے تدریسی مواد کی تیاری، طلبہ کی معاونت، فیڈبیک، ڈیٹا کے تجزیے اور انتظامی امور میں AI کے استعمال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ AI سے تیار کردہ مواد کی تصدیق اور حتمی ذمہ داری متعلقہ استاد یا افسر پر ہونی چاہیے۔
ماہرین نے روایتی امتحانی اور اسائنمنٹ نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ طلبہ کی جانچ صرف حتمی تحریری کام کی بنیاد پر کرنے کے بجائے ان کے استدلال، عملی مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، کام کے مراحل، تنقیدی جائزے اور زبانی دفاع کو بھی شامل کیا جائے۔ پروفیسر ڈاکٹر طارق زمان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کو صرف روکنے یا شناخت کرنے پر توجہ دینا کافی نہیں۔ اصل ضرورت یہ سمجھنے کی ہے کہ حقیقی سیکھنے میں کوشش، غلطی، سوال، غیر یقینی کیفیت اور بتدریج بہتری شامل ہوتی ہے۔ ایسی جانچ جو ذاتی، حقیقی اور مقامی حالات سے منسلک ہو، اسے طلبہ مکمل طور پر AI کے سپرد نہیں کر سکتے۔ شرکاء نے شفافیت، رازداری، معلومات کی تصدیق اور انسانی جوابدہی کو بنیادی اصول قرار دیا۔ طلبہ کو AI کے استعمال کی وضاحت کرنی چاہیے، جبکہ جامعات کو حساس تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی معلومات غیر منظور شدہ پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ مکالمے میں مصنوعی ذہانت تک مساوی رسائی پر بھی زور دیا گیا۔ ماہرین نے HEC اور جامعاتی اتحادوں کے ذریعے مشترکہ لائسنسنگ، محفوظ ادارہ جاتی ٹولز، مشترکہ کمپیوٹنگ سہولیات اور کم لاگت مقامی AI نظام تیار کرنے کی سفارش کی۔ شرکاء نے پاکستانی زبانوں، مقامی ڈیٹا اور قومی مسائل پر مبنی مصنوعی ذہانت کے نظام اور تحقیقی صلاحیت کی ترقی کو بھی ضروری قرار دیا۔
مکالمے کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ جامعات نہ تو مصنوعی ذہانت کو مکمل طور پر مسترد کریں اور نہ ہی بغیر مناسب اصولوں اور حفاظتی اقدامات کے اسے اپنائیں۔ اساتذہ، طلبہ اور ادارہ جاتی نظام کو ذمہ دارانہ، اخلاقی اور مقامی ضروریات سے ہم آہنگ AI استعمال کے لیے تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔








