بلاول بھٹو کا آزاد کشمیر کے لیے آئینی، سیاسی اور معاشی حقوق کا وعدہ، آئینی کنونشنز اور ٹروتھ اینڈ ریکنسلی ایشن کمیشن کی تجویز

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 27 جولائی کے انتخابات نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پاکستان کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں

میرپور۔17جولائی (اے پی پی):چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 27 جولائی کے انتخابات نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پاکستان کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار کے لیے نہیں بلکہ عوامی خدمت، جمہوریت اور عوام کے آئینی، سیاسی و معاشی حقوق کے لیے سیاست کرتی ہے۔ڈڈیال میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ موجودہ حالات میں سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیری عوام کی آواز بن کر اسے مظفرآباد، اسلام آباد اور عالمی سطح تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آزاد کشمیر کے عوام پاکستان پیپلز پارٹی پر اعتماد کرتے ہیں تو وہ ہر فورم پر کشمیریوں کے حقوق کی بھرپور نمائندگی کریں گے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے احتجاج کرنے والوں اور ریاست کے درمیان جاری کشیدگی کے حل کے لیے انہوں نے ٹروتھ اینڈ ریکنسلی ایشن کمیشن قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حقِ روزگار پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور کا بنیادی حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے بعد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں آئینی کنونشنز قائم کیے جائیں گے، جہاں تمام سیاسی جماعتوں، ماہرین اور عوام کی مشاورت سے آئینی اصلاحات پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا۔بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ آئینی اصلاحات سڑکوں پر نہیں بلکہ پارلیمنٹ، مکالمے اور اتفاق رائے سے کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مستقبل صرف کشمیری عوام طے کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کے تحفظ کے ساتھ انتخابی نظام میں اصلاحات پر بھی سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ کشمیری عوام کی حقیقی نمائندگی یقینی بنائی جا سکے۔