پاکستان میں مذہبی اتحاد کی تاریخی مثال، تمام مکاتبِ فکر کے علماء نے ایک امام کے پیچھے نماز ادا کی

تمام مکاتبِ فکر کے ممتاز علماء کرام اور مشائخ نے جامعۃ الرشید کراچی میں ایک ہی امام کے پیچھے نمازِ مغرب ادا کر کے مذہبی ہم آہنگی، قومی اتحاد اور یکجہتی کی بے مثال مثال قائم کی

کراچی۔17جولائی (اے پی پی):تمام مکاتبِ فکر کے ممتاز علماء کرام اور مشائخ نے جامعۃ الرشید کراچی میں ایک ہی امام کے پیچھے نمازِ مغرب ادا کر کے مذہبی ہم آہنگی، قومی اتحاد اور یکجہتی کی بے مثال مثال قائم کی۔یہ تاریخی منظر جامعۃ الرشید کراچی کے سرکاری دورے کے موقع پر دیکھنے میں آیا، جس کا اہتمام قومی پیغامِ امن کمیٹی نے کیا تھا۔ اس موقع پر مختلف مکاتبِ فکر کے جید علماء و مشائخ، ملک کے بڑے دینی مدارس کے نمائندگان اور مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے شرکت کی۔اس اجتماع کو پاکستان کی تاریخ کا پہلا موقع قرار دیا جا رہا ہے، جب تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء ایک ممتاز دینی ادارے میں جمع ہوئے اور ایک ہی امام کی اقتداء میں باجماعت نماز ادا کرتے ہوئے اتحاد، رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا مضبوط پیغام دیا۔کوآرڈینیٹر برائے قومی پیغامِ امن کمیٹی اور چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، علامہ عارف واحدی، علامہ محمد حسین اکبر، مفتی عبدالرحیم، علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مفتی محمد کریم خان، ڈاکٹر آصف میر، مفتی یوسف کشمیری، علامہ توقیر عباس، علامہ اسد زیدی، حافظ مقبول احمد اور مختلف وفاق ہائے مدارس کے نمائندگان نے شرکت کی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے اس موقع کو پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کی جانب ایک تاریخی کامیابی قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج وہ دن آ گیا ہے جس کا ہم طویل عرصے سے انتظار کر رہے تھے۔ ہماری خواہش تھی کہ جس طرح حرمین شریفین میں تمام مسلمان ایک امام کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں، اسی طرح پاکستان میں بھی مسلمان اتحاد کا عملی مظاہرہ کریں۔ الحمدللہ آج جامعۃ الرشید سے اس مبارک سفر کا آغاز ہو گیا ہے۔ ان شاء اللہ قوم آئندہ بھی اتحاد، امن، رواداری اور اخوت کے ایسے عملی مظاہرے دیکھتی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی، پیغامِ پاکستان کے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پُرعزم ہے اور انتہاپسندی، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں اتحاد، رواداری، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام اور دینی رہنماؤں کی شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی اجتماعی موجودگی امن، مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔