ایگزیکٹو پروگرام آن کاربن فنانس فار سی ای اوز کا انعقاد ، کاربن فنانس اور موسمیاتی سرمایہ کاری کے نئے امکانات پر تبادلہ خیال

نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اقبال ایگزیکٹو ڈیولپمنٹ سینٹر( آئی ای ڈی سی) ، نٹ شیل کمیونیکیشنز اور کلائمیٹ ولنریبل فورم و ولنریبل ٹوئنٹی کے زیر اہتمام ’ ایگزیکٹو پروگرام آن کاربن فنانس فار سی ای اوز کا انعقاد کیا گیا جس میں کاربن فنانس اور موسمیاتی سرمایہ کاری کے نئے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسلام آباد۔18جولائی (اے پی پی):نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اقبال ایگزیکٹو ڈیولپمنٹ سینٹر( آئی ای ڈی سی) ، نٹ شیل کمیونیکیشنز اور کلائمیٹ ولنریبل فورم و ولنریبل ٹوئنٹی کے زیر اہتمام ’ ایگزیکٹو پروگرام آن کاربن فنانس فار سی ای اوز کا انعقاد کیا گیا جس میں کاربن فنانس اور موسمیاتی سرمایہ کاری کے نئے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پروگرام میں چیف ایگزیکٹو آفیسرز (سی ای اوز)، بورڈ ممبران، چیف فنانشل آفیسرز (سی ایف اوز) اور پائیداری (Sustainability) کے شعبے سے وابستہ رہنمائوں نے شرکت کی اور موسمیاتی مالیات اور کاربن مارکیٹس میں ابھرنے والے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ نسٹ کے آئی ای ڈی سی نے پروگرام کی موثر منصوبہ بندی اور انعقاد میں اہم کردار ادا کیا جبکہ نٹ شیل کمیونیکیشنز نے کارپوریٹ شعبے سے رابطوں کے ذریعے ملک کے نمایاں چیف ایگزیکٹوز اور پائیداری کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔

علمی شراکت دار کے طور پر CVF-V20 نے موسمیاتی مالیات، کاربن مارکیٹس اور پائیدار سرمایہ کاری میں اپنے عالمی تجربے کی بنیاد پر پروگرام کے مواد کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ پروگرام موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے اور کم کاربن و موسمیاتی مزاحم ترقی کے لیے سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے وسیع تر مقصد کا حصہ تھا۔پروگرام سے پاکستان کے معروف ماہرین نے خطاب کیا جن میں ذوالفقار یونس (سینئر ایڈوائزر، کلائمیٹ فنانس CVF-V20)، احسن کامران، خرم لالانی اور ماہا قاسم شامل تھے۔ مقررین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اہم کاروباری معاملہ بن چکی ہے جو سرمایہ کاری، مالی وسائل تک رسائی، برآمدی مسابقت اور کارپوریٹ گورننس پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کم کاربن معیشت کی جانب بروقت پیش رفت کرنے والی کمپنیاں سرمایہ کاری حاصل کرنے، اپنی استعداد بڑھانے اور آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کرنے میں زیادہ کامیاب ہوں گی۔ شرکا نے پاکستان کی نئی پالیسیوں جن میں پاکستان کاربن مارکیٹ پالیسی، پاکستان گرین ٹیکسانومی اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کا سسٹین ایبلٹی رپورٹنگ فریم ورک شامل ہیں، سے پیدا ہونے والے مواقع کا جائزہ لیا۔ ان اصلاحات سے کاروباری اداروں کے لیے گرین فنانس، کاربن کریڈٹ منصوبوں اور عالمی پائیداری کے معیارات سے ہم آہنگ ہونے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ پروگرام کی ایک اہم جھلک ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایس ای سی پی مسرت جبین کا خصوصی خطاب تھا جنہوں نے پائیداری سے متعلق رپورٹنگ اور کارپوریٹ گورننس کے فروغ کے لیے کمیشن کے وژن پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے موسمیاتی خطرات سے متعلق معلومات کے افشا اور بورڈ سطح پر موثر قیادت کی اہمیت پر زور دیا تاکہ پاکستان کا کارپوریٹ شعبہ مستقبل کی ریگولیٹری اور مارکیٹ ضروریات کے لیے تیار ہو سکے۔ پروگرام میں شیل کمپنی کی کاربن فنانس حکمت عملی پر ایک بین الاقوامی کیس سٹڈی بھی پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ کس طرح عالمی توانائی کمپنی نے کاربن فنانس کو اپنے کاروباری ماڈل کا حصہ بنا کر ڈی کاربنائزیشن، سرمایہ کاری کے فروغ اور طویل المدتی کاروباری قدر میں اضافہ کیا۔ اس مثال نے واضح کیا کہ موسمیاتی اقدامات صرف قانونی تقاضا نہیں بلکہ ایک منافع بخش کاروباری موقع بھی بن سکتے ہیں۔ دن بھر شرکا نے کاربن مارکیٹس اور موسمیاتی مالیات کے ماہرین سے عملی رہنمائی حاصل کی اور قابل سرمایہ کاری کاربن منصوبوں کی نشاندہی، کاربن کریڈٹس کی تیاری، گرین سرمایہ کاری کے فروغ اور موسمیاتی حکمت عملی کو کاروباری منصوبہ بندی میں شامل کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

انٹرایکٹو سیشنز اور سی ای او سٹریٹجی ورکشاپ نے شرکا کو پالیسی اقدامات کو اپنی کمپنیوں کے لیے قابل عمل منصوبوں میں تبدیل کرنے کا موقع فراہم کیا۔ پروگرام کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ کم کاربن معیشت کی جانب منتقلی آئندہ دہائی کے سب سے بڑے کاروباری مواقع میں سے ایک ہے۔ وہ کمپنیاں جو بروقت موسمیاتی سرمایہ کاری، مضبوط پائیداری گورننس اور کاربن مارکیٹس میں شرکت کو ترجیح دیں گی، وہ سرمایہ کاری حاصل کرنے، مسابقت بڑھانے اور طویل المدتی قدر پیدا کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل کریں گی۔

اس نوعیت کے پروگراموں کے ذریعے CVF-V20 حکومتوں، مالیاتی اداروں اور نجی شعبے کے ساتھ مل کر موسمیاتی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک میں کاربن فنانس تک رسائی کو وسعت دینے کے لیے کام کر رہا ہے۔ فورم کا مقصد پالیسی سازوں اور کاروباری رہنمائوں کے درمیان تعاون کو فروغ دے کر موسمیاتی اہداف کو ایسے تجارتی منصوبوں میں تبدیل کرنا ہے جو پائیدار ترقی اور اقتصادی نمو دونوں میں معاون ثابت ہوں۔

 

مزید خبریں