پاک چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس سی پیک 2.0 کے عملی خدوخال کی بہترین مثال، اب ہمارا تعاون صرف سڑکوں، پلوں اور بجلی کے منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ صحت، انسانی جانوں کے تحفظ اور جدید طبی صنعت کی ترقی تک پھیل چکا ہے، وزیر مملکت مختار احمد بھرتھ
پاک چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس سی پیک 2.0 کے عملی خدوخال کی بہترین مثال، اب ہمارا تعاون صرف سڑکوں، پلوں اور بجلی کے منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ صحت، انسانی جانوں کے تحفظ اور جدید طبی صنعت کی ترقی تک پھیل چکا ہے، وزیر مملکت مختار احمد بھرتھ

مزید خبریں
اسلام آباد۔18جولائی (اے پی پی):وزیر مملکت برائے صحت مختار احمد بھرتھ نے کہا ہے کہ پاک چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس سی پیک 2.0 کے عملی خدوخال کی بہترین مثال بن گئی ہے، اب ہمارا تعاون صرف سڑکوں، پلوں اور بجلی کے منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ صحت، انسانی جانوں کے تحفظ اور جدید طبی صنعت کی ترقی تک پھیل چکا ہے، دونوں ممالک کے صنعتی رہنماؤں نے خطے میں صحت کے شعبے کے تعاون کو ایک نئی سمت دی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں پاک چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں وفاقی سیکرٹری قومی صحت، سیکرٹری صحت بلوچستان، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ، چینی سفیر، 150 سے زائد چینی وفود اور پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے رہنمائوں نے شرکت کی۔
وزیر مملکت مختار احمد بھرتھ نے کہا کہ جب ہم نے اس کانفرنس کا آغاز کیا تو وزیراعظم پاکستان کی قیادت میں ہم نے وعدہ کیا کہ یہ کانفرنس صرف رسمی تقاریر یا سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کا مرکز عملی اقدامات ہوں گے اور آج کے نتائج اس وعدے کی تکمیل کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اس بات کو یاد رکھے گی کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صحت کے شعبے میں تجارتی اور تزویراتی اعتبار سے اتنا بڑا اتحاد قائم ہوا ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ یہ کانفرنس سی پیک فیز ٹو کے عملی خدوخال کی بہترین مثال بن گئی ہے، اب ہمارا تعاون صرف سڑکوں، پلوں اور بجلی کے منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ صحت کی معیشت، انسانی جانوں کے تحفظ اور جدید طبی صنعت کی ترقی تک پھیل چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو روز کے دوران دونوں ممالک کے صنعتی رہنماؤں نے خطے میں صحت کے شعبے کے تعاون کو ایک نئی سمت دی ہے اور کانفرنس میں 850 ملین امریکی ڈالر سے زائد مالیت کی تجارتی شراکت داریوں کو حتمی شکل دی گئی، ان معاہدوں میں سیل لائن ڈویلپمنٹ، جدید بائیوٹیکنالوجی انجکشن کی مشترکہ پیداوار، اے پی آئی مینوفیکچرنگ، میڈیکل ڈیوائسز کی مقامی تیاری اور کلینیکل ٹرائلز جیسے منصوبے شامل ہیں۔مزید برآں 18 مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کئے گئے جن کی مالیت 250 ملین امریکی ڈالر ہے، ان مفاہمتی یادداشتوں کا مقصد صنعتی توسیع، علاج کے شعبے میں تعاون اور مستقبل کی سرمایہ کاری کے لیے بنیاد فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری محض اعلانات نہیں بلکہ عملی منصوبوں کے آغاز کی علامت ہے، جو پاکستان میں جدید طبی صنعت اور مقامی مینوفیکچرنگ کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔ وزیر مملکت نے حکومت پاکستان کی جانب سے چین سے آنے والے 150 سے زائد ماہرین اور پاکستان میں چین کے سفیر ژانگ ژیڈونگ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اعتماد، سائنسی مہارت اور طویل المدتی شراکت داری کے عزم نے اس کامیابی کو ممکن بنایا، چینی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی پاکستان کو خطے میں طبی مصنوعات کی تیاری اور برآمدات کا اہم مرکز بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔انہوں نے پاکستانی فارماسیوٹیکل صنعت کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقامی صنعت نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ روایتی ادویہ سازی سے آگے بڑھ کر عالمی معیار کی ہائی ٹیک صنعت بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ ریگولیٹری منظوری، پلانٹس کے لائسنس، اراضی کی فراہمی اور رجسٹریشن سمیت تمام امور کو اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی نگرانی میں ترجیحی بنیادوں پر اور بلا تاخیر مکمل کیا جائے گا۔انہوں نے چینی شرکاء کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی صنعتکاروں پر زور دیا کہ وہ اس کانفرنس کے بعد فوری طور پر اپنے منصوبوں پر عملدرآمد شروع کریں تاکہ اس تاریخی تعاون کو ایک صحت مند، خود کفیل اور خوشحال مستقبل میں تبدیل کیا جا سکے۔وزیر مملکت نے اپنے خطاب کے اختتام پر ’’پاکستان چین دوستی زندہ باد‘‘ کا نعرہ بھی لگایا۔








