اہم شخصیات کا چینی صدر کے عالمی اے آئی کانفرنس سے کلیدی خطاب پر ردعمل

چینی صدر شی جن پنگ کے 2026 عالمی اے آئی کانفرنس اور عالمی اے آئی گورننس اعلی سطحی اجلاس کی افتتاحی تقریب سے کلیدی خطاب کے حوالہ سے متعدد ممالک کی اہم شخصیات کا کہنا ہے کہ صدر شی جن پنگ کے خطاب میں وسیع تر بین الاقوامی تعاون کی ضرورت اور ڈیجیٹل و ذہین ٹیکنالوجی کے فرق کو کم کرنے پر زور دیا گیا جو انتہائی دُور رس اہمیت …

بیجنگ ۔19جولائی (اے پی پی):چینی صدر شی جن پنگ کے 2026 عالمی اے آئی کانفرنس اور عالمی اے آئی گورننس اعلی سطحی اجلاس کی افتتاحی تقریب سے کلیدی خطاب کے حوالہ سے متعدد ممالک کی اہم شخصیات کا کہنا ہے کہ صدر شی جن پنگ کے خطاب میں وسیع تر بین الاقوامی تعاون کی ضرورت اور ڈیجیٹل و ذہین ٹیکنالوجی کے فرق کو کم کرنے پر زور دیا گیا جو انتہائی دُور رس اہمیت کا حامل ہے۔

یہ خیالات مشترکہ طور پر ایک منصفانہ اور معقول عالمی اے آئی گورننس سسٹم کی تشکیل کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے محقق حارث ملک نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کا یہ مؤقف انتہائی اہم ہے کہ چین مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہمیشہ عالمی عوامی مفاد کے لیے خدمات اور وسائل فراہم کرنے کا خواہاں رہا ہے۔

ان کے بقول اس سے یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ مصنوعی ذہانت صرف امیر، ترقی یافتہ یا بڑے ممالک کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کے فوائد پوری انسانیت اور دنیا کے تمام ممالک بالخصوص گلوبل ساؤتھ تک پہنچنے چاہئیں۔برازیل کے بین الاقوامی سیاسی معیشت کے ماہر ایلان کاموسا نے کہا کہ اس وقت گلوبل ساؤتھ اورگلوبل نارتھ کے درمیان شدید عدم توازن پایا جاتا ہے، خصوصاً مصنوعی ذہانت کی ترقی کے میدان میں واضح عدم توازن موجود ہے۔

ان کے مطابق گلوبل ساؤتھ کے ممالک اہم معدنیات، توانائی اور ڈیٹا فراہم کرتے ہیں لیکن قواعد و ضوابط کی تشکیل کے عمل میں انہیں اب بھی بڑی حد تک نظر انداز کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے میدان میں ناانصافیوں سے بچنے کی بات دراصل اسی مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ مؤقف انتہائی منصفانہ ہے اور عین وقت پر سامنے آیا ہے۔

مزید خبریں