موسمیاتی موافق زراعت پاکستان میں گندم اور چاول کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار

موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات پاکستان کی غذائی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں جہاں درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ، غیر معمولی بارشوں، سیلابوں، خشک سالی اور پانی کی قلت کے باعث اہم فصلوں خصوصاً گندم اور چاول کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔موسمیاتی جائزوں کے مطابق پاکستان میں درجہ حرارت میں اضافہ عالمی اوسط سے زیادہ تیزی سے ہو رہا ہےجس سے زراعت …

اسلام آباد۔19جولائی (اے پی پی):موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات پاکستان کی غذائی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں جہاں درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ، غیر معمولی بارشوں، سیلابوں، خشک سالی اور پانی کی قلت کے باعث اہم فصلوں خصوصاً گندم اور چاول کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔موسمیاتی جائزوں کے مطابق پاکستان میں درجہ حرارت میں اضافہ عالمی اوسط سے زیادہ تیزی سے ہو رہا ہےجس سے زراعت کا شعبہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔ زراعت نہ صرف ملکی معیشت کا اہم ستون ہے بلکہ لاکھوں دیہی خاندانوں کے روزگار کا بنیادی ذریعہ بھی ہے۔وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کے میڈیا ترجمان اور موسمیاتی پالیسی کے ماہر محمد سلیم شیخ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ پاکستان کی قومی غذائی سلامتی کا معاملہ بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی گرمی کی لہریں، سیلاب اور خشک سالی فصلوں کے پیداواری چکروں کو متاثر کر رہے ہیں، جس سے زرعی پیداوار میں کمی اور پہلے ہی دباؤ کا شکار آبی وسائل پر مزید بوجھ بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو فوری طور پرموسمیاتی موافق زراعت کی جانب منتقل ہونا ہوگاجس میں سائنسی تحقیق، موسمیاتی اثرات برداشت کرنے والی فصلوں کی اقسام، جدید آبپاشی نظام اور بہتر زرعی طریقہ کار شامل ہیں۔درجہ حرارت میں ہر اضافی اضافہ کسانوں، خوراک کی فراہمی اور ملکی معیشت کے لیے خطرات بڑھاتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے موافقت اب مستقبل کا منصوبہ نہیں بلکہ فوری قومی ترجیح ہونی چاہیے۔

محمد سلیم شیخ نے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی کے تحقیقی ادارے گلوبل چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر (جی سی آئی ایس سی) کے مطالعات کے مطابق پاکستان میں اوسط درجہ حرارت میں اضافہ عالمی اوسط سےزیادہ رہنے کا امکان ہے اور صدی کے اختتام تک درجہ حرارت میں تقریباً ایک ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ متوقع ہے۔جی سی آئی ایس سی کے فصلوں سے متعلق ماڈلز کے مطابق نیم خشک آبپاشی والے علاقوں، جن میں فیصل آباد اور شیخوپورہ شامل ہیں، میں گندم کی پیداوار میں 3.4 سے 12.5 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے جبکہ حیدرآباد، بدین، بہاولپور اور ملتان جیسے خشک علاقوں میں یہ کمی 3.8 سے 14.5 فیصد تک متوقع ہے۔پوٹھوہار کے بارانی علاقوں،خصوصاً چکوال میں صدی کے اختتام تک گندم کی پیداوار میں تقریباً 16 فیصد کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔محمد سلیم شیخ نے کہا کہ گندم پاکستان کی غذائی سلامتی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی پیداوار میں کمی براہ راست لاکھوں گھرانوں کو متاثر کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ چاول کی پیداوار کو بھی شدید موسمیاتی خطرات کا سامنا ہے۔

جی سی آئی ایس سی کے مطابق بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور بدلتے موسمی حالات کے باعث صدی کے اختتام تک پاکستان کے بڑے چاول پیدا کرنے والے علاقوں میں پیداوار میں 12 سے 22 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑھتے درجہ حرارت کے باعث فصلوں کی افزائش کادورانیہ مختصر ہو رہا ہےجس سے فصلوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ کسانوں کو موسمیاتی مزاحمت رکھنے والے بیج، بروقت موسمی معلومات، جدید زرعی مشاورت اور بہتر پانی کے انتظام کی سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پانی کی بڑھتی ہوئی قلت پاکستان کے زرعی خطرات میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت میں اضافے سے فصلوں کی پانی کی ضروریات بڑھ رہی ہیں جبکہ دستیاب پانی کے وسائل محدود ہو رہے ہیں۔

محمد سلیم شیخ نےکہا کہ پانی کے تحفظ، جدید آبپاشی نظام، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، خشک سالی برداشت کرنے والی اقسام اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ کے بغیر زرعی پائیداری ممکن نہیں ہوگی۔ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے بھی پاکستان کے زرعی شعبے کو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونےوالے شعبوں میں شمار کیا ہے جبکہ عالمی بینک نے بھی شدید موسمی واقعات کے باعث فصلوں، مویشیوں اور آبپاشی کے نظام کو درپیش خطرات کی نشاندہی کی ہے۔محمد سلیم شیخ نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی موافق زراعت کے فروغ، درست آبپاشی، بارانی پانی کے ذخیرے، بہتر موسمی پیش گوئی کے نظام اور جدید کاشت کاری کے طریقوں کو تیزی سے اپنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے دور میں غذائی سلامتی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ہم سائنسی معلومات کو زرعی فیصلوں میں کتنی مؤثر طریقے سے شامل کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ زراعت پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً ایک چوتھائی حصہ رکھتی ہے اور بڑی تعداد میں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ ہے، اس لیے زرعی شعبے کو موسمیاتی اثرات سے محفوظ بنانا ملکی معاشی استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔محمد سلیم شیخ نے زور دیا کہ زراعت کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچانے کے لیے حکومت، سائنسی اداروں، کسانوں اور تمام متعلقہ فریقوں کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ غذائی سلامتی، آبی سلامتی اور موسمیاتی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، اس لیے موسمیاتی موافقت کو قومی ترقیاتی منصوبہ بندی کا مرکزی حصہ بنانا ہوگا۔

مزید خبریں