سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کمپنیوں کو موصول ہونے والی ڈیویڈنڈ آمدن پر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 5 کے تحت عائد ٹیکس ہی لاگو ہوگا اور اسے 35 فیصد نارمل کارپوریٹ ٹیکس کے دائرے میں نہیں لایا جا سکتا۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کمشنر ان لینڈ ریونیو، لارج ٹیکس پیئر آفس اسلام آباد کی جانب سے …
سپریم کورٹ نے کمپنیوں کے ڈیویڈنڈ پر 10 فیصد حتمی ٹیکس برقرار رکھتے ہوئے ایف بی آر کی اپیلیں مسترد کر دیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔20جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کمپنیوں کو موصول ہونے والی ڈیویڈنڈ آمدن پر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 5 کے تحت عائد ٹیکس ہی لاگو ہوگا اور اسے 35 فیصد نارمل کارپوریٹ ٹیکس کے دائرے میں نہیں لایا جا سکتا۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کمشنر ان لینڈ ریونیو، لارج ٹیکس پیئر آفس اسلام آباد کی جانب سے دائر نو سول پٹیشنز مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا 19 ستمبر 2024ء کا فیصلہ برقرار رکھا۔جسٹس عقیل احمد عباسی نے 3 جولائی 2026ء کو محفوظ کیا گیا فیصلہ تحریر کیا جس میں کہا گیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 5 ڈیویڈنڈ آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کی ایک خصوصی اور خودمختار قانونی شق ہے جس کے تحت ڈیویڈنڈ پر الگ شرح سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔
ایسی آمدن کو دفعہ 39 کے تحت دیگر ذرائع سے آمدن قرار دے کر 35 فیصد نارمل کارپوریٹ ٹیکس کے تابع نہیں بنایا جا سکتا۔عدالت نے قرار دیا کہ اگر ڈیویڈنڈ آمدن کو دفعہ 39 کے تحت ٹیکس کیا جائے تو دفعہ 5 غیر موثر ہو جائے گی جبکہ قانون کی تشریح کا مسلمہ اصول یہ ہے کہ کسی بھی قانونی شق کو غیر ضروری یا بے اثر نہیں بنایا جا سکتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت دفعہ 5 ایک الگ چارجنگ پروویژن ہے جس میں نہ صرف ڈیویڈنڈ پر ٹیکس عائد کیا گیا ہے بلکہ اس کی شرح اور وصولی کا طریقہ کار بھی الگ مقرر کیا گیا ہے، لہٰذا اسے نارمل ٹیکس نظام کے تحت نہیں لایا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے اپنے سابقہ فیصلے فواد احمد مختار بنام کمشنر ان لینڈ ریونیو (2022 SCMR 426) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے میں بھی واضح کیا جا چکا ہے کہ ڈیویڈنڈ آمدن ایک علیحدہ بلاک آف انکم ہے اور اس پر صرف دفعہ 5 کا اطلاق ہوگا۔عدالت نے ایف بی آر کا یہ موقف بھی مسترد کر دیا کہ فنانس ایکٹ 2007 کے ذریعے دفعہ 8 میں شامل کی گئی شق کی وجہ سے کمپنیوں کو ملنے والا ڈیویڈنڈ حتمی ٹیکس کے نظام سے خارج ہو گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ دفعہ 8 محض طریقہ کار سے متعلق شق ہے جو دفعہ 5 جیسے بنیادی قانونی حکم کو تبدیل یا محدود نہیں کر سکتی۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ قانون کے مطابق ہے، اس میں مداخلت کی کوئی وجہ موجود نہیں، لہٰذا ایف بی آر کی تمام سول پٹیشنز مسترد کی جاتی ہیں۔








