حفظ مراتب (وارنٹ آف پریسیڈنس) میں مجوزہ ترامیم کےلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل ، 14 دن میں وزیراعظم کو رپورٹ پیش کرے گی

وزیراعظم نے حفظ مراتب (وارنٹ آف پریسیڈنس) میں مجوزہ ترامیم پر تفصیلی غور و خوض کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اس کمیٹی کو بنیادی طور پر یہ مینڈیٹ تفویض کیا گیا ہے کہ وہ وارنٹ آف پریسیڈنس کی موجودہ قانونی حیثیت کا گہرائی سے جائزہ لے، ’مصطفیٰ امپیکس کیس‘ کے فیصلے کی روشنی میں ترامیم کے لیے مجاز اتھارٹی کا تعین کرے اور سرکاری …

اسلام آباد۔20جولائی (اے پی پی):وزیراعظم نے حفظ مراتب (وارنٹ آف پریسیڈنس) میں مجوزہ ترامیم پر تفصیلی غور و خوض کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اس کمیٹی کو بنیادی طور پر یہ مینڈیٹ تفویض کیا گیا ہے کہ وہ وارنٹ آف پریسیڈنس کی موجودہ قانونی حیثیت کا گہرائی سے جائزہ لے، ’مصطفیٰ امپیکس کیس‘ کے فیصلے کی روشنی میں ترامیم کے لیے مجاز اتھارٹی کا تعین کرے اور سرکاری عہدوں کی درجہ بندی (رینکنگ) کے لیے شفاف اور غیر جانبدارانہ اصول وضع کرے۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ حالیہ نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف کو اس کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔

اس اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی میں وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور ، وفاقی وزیر برائے قومی صحت و خدمات اور مشیر وزیراعظم برائے پی ایم او کو بطور ارکان شامل کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ سیکریٹری کیبنٹ ڈویژن کمیٹی کے رکن اور سیکریٹری ہوں گے جبکہ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بھی اس کمیٹی کا حصہ ہیں۔ کمیٹی کو یہ خصوصی اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ اپنی قانونی اور انتظامی معاونت کے لیے کسی بھی وزارت، ڈویژن یا ادارے کے افسر یا متعلقہ ماہر کو شامل کر سکتی ہے۔کمیٹی کے دائرہ کار میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکریٹریٹ اور اس کے چیئرمین کی جانب سے دی گئی سابقہ سفارشات پر تفصیلی نظرثانی کرنا بھی شامل ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ کمیٹی ایسے ٹھوس قواعد تیار کرے گی جن کے تحت مستقبل میں کسی بھی سرکاری عہدے کو اس لسٹ میں شامل، تبدیل یا حذف کیا جا سکے اور وارنٹ آف پریسیڈنس کو وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کرنے کے لیے ایک مستقل اور خودکار طریقہ کار بھی تجویز کیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن کے تحت کیبنٹ ڈویژن کمیٹی کو تمام سیکریٹریٹ سپورٹ فراہم کرے گی اور کمیٹی کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ہر صورت 14 روز کے اندر اپنی حتمی سفارشات اور ترمیمی مسودہ وزیراعظم کو پیش کرے۔