سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے 11 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کردی

سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے کراچی کے علاقے لانڈھی میں 11 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کے مقدمے میں مجرم گوہر کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں پانچ رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ نے منگل کو اپیل پر سماعت کی۔

اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے کراچی کے علاقے لانڈھی میں 11 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کے مقدمے میں مجرم گوہر کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں پانچ رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ نے منگل کو اپیل پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کا نہ ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا اور نہ ہی فنگر پرنٹس لیے گئے۔جسٹس شہزاد احمد ملک نے ریمارکس دیئے کہ 11 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔

استغاثہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مجرم مقتولہ کے والد کا دوست تھا، جس پر جسٹس شہزاد احمد ملک نے ریمارکس دیئے کہ مجرم کو شاید یہ لگا ہوگا کہ کسی کو اس پر شک نہیں ہوگا۔دوران سماعت جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ان کا ایک مرتبہ پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری جانا ہوا جہاں معلوم ہوا کہ ایک قتل کے واقعے کے خلاف جلوس نکالا گیا تھا، لیکن جلوس میں سب سے زیادہ چیخنے والا شخص ہی بعد میں ملزم نکلا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ انصاف کرنے والا ہے حقدار کو حق مل جاتا ہے۔جسٹس شہزاد احمد ملک نے کہا کہ انہوں نے بھی ایسا ایک واقعہ دیکھا جس میں مقتول کے دوست جنازے اور قل میں شریک رہےمگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہی قاتل تھے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ قتل ایک گولی سے بھی ہوتا ہے، تاہم ہمارا کام جذباتی ہونا نہیں بلکہ قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔جسٹس شہزاد احمد ملک نے کہا کہ اس مقدمے میں ایک بچی کو انتہائی بربریت سے قتل کیا گیا، جبکہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اگر اس کیس میں سزائے موت نہ ہو تو پھر کس کیس میں ہوگی۔سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے مجرم گوہر کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دے دیااستغاثہ کے مطابق مقدمے کا ایف آئی آر 28 فروری 2005 کو کراچی کے علاقے لانڈھی میں درج ہوئی تھی۔ ٹرائل کورٹ نے مجرم کو سزائے موت سنائی تھی جسے سندھ ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔

 

مزید خبریں