وفاقی وزیر قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے اقوام متحدہ کی خواتین کی تنظیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے چیف آف سٹاف محمد نصیری نے ملاقات کی جس میں حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ کی خواتین کی تنظیم کے درمیان خواتین کے حقوق، صنفی مساوات، خواتین و بچیوں کے بااختیار بنانے اور جامع طرزِ حکمرانی کے فروغ کے لیے جاری شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے …
وفاقی وزیر قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے اقوام متحدہ کی خواتین کی تنظیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے چیف آف سٹاف محمد نصیری کی ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد۔20جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے اقوام متحدہ کی خواتین کی تنظیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے چیف آف سٹاف محمد نصیری نے ملاقات کی جس میں حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ کی خواتین کی تنظیم کے درمیان خواتین کے حقوق، صنفی مساوات، خواتین و بچیوں کے بااختیار بنانے اور جامع طرزِ حکمرانی کے فروغ کے لیے جاری شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
جاری پریس ریلیز کے مطابق اقوام متحدہ کی خواتین کی تنظیم کے وفد میں پاکستان میں خواتین کے کنٹری نمائندے جمشید ایم قاضی اور ڈپٹی کنٹری نمائندہ فہمیدہ اقبال خان بھی شامل تھیں۔ وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے پاکستان کے ساتھ اقوام متحدہ کی خواتین کی تنظیم کے مسلسل تعاون کو سراہا اور خواتین کے حقوق کے تحفظ، صنفی مساوات کے فروغ، انصاف تک رسائی بہتر بنانے اور موثر پالیسی سازی کے لیے وزارت انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کی خواتین کی تنظیم کے درمیان قریبی اشتراک پر روشنی ڈالی۔
ملاقات کے دوران خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے سے متعلق قومی پالیسی پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جسے اقوام متحدہ کی خواتین کی تنظیم کی تکنیکی معاونت سے صوبائی حکومتوں، سول سوسائٹی اور ماہرینِ تعلیم سے وسیع مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے اس جامع قومی پالیسی کو جلد حتمی شکل دینے اور اس پر موثر عمل درآمد کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔فریقین نے آئندہ منعقد ہونے والی سارک کانفرنس پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اسے جنوبی ایشیا میں صنفی مساوات، خواتین کے حقوق اور جامع ترقی کے فروغ کے لیے علاقائی تعاون کا ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔ملاقات میں شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے فروغ کے لیے پاکستان کے جینڈر ڈیٹا سسٹم کو مزید مضبوط بنانے، بین الاقوامی ذمہ داریوں خصوصاً خواتین کے خلاف تمام قسم کے امیتاز کے خاتمے سے متعلق کنونشن ( سی ای ڈی اے ڈبلیو )اور بیجنگ ڈیکلریشن اینڈ پلیٹ فارم فار ایکشن کے تحت رپورٹنگ کو موثر بنانے، نیز خواتین کے معاشی بااختیار بنانے، ڈیجیٹل شمولیت اور ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس ضمن میں خواتین اور بچیوں کے خلاف ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے تشدد سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تعاون کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ملاقات کے دوران محمد نصیری نے اقوام متحدہ کی خواتین کی تنظیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی جانب سے وفاقی وزیر کو تعریفی خط پیش کیا جس میں حکومت پاکستان کی جانب سے نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کے کامیاب انعقاد، آئندہ دو برس کے لیے کانفرنس کی چیئرمین شپ سنبھالنے اور خواتین کے بااختیار بنانے اور صنفی مساوات کے فروغ میں پاکستان کے قائدانہ کردار کو سراہا گیا۔
انہوں نے وزارت انسانی حقوق کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے تنظیم کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے خواتین اور بچیوں کے حقوق کے تحفظ، صنفی مساوات کے فروغ اور جامع و پائیدار ترقی کے لیے اقوام متحدہ کی خواتین کی تنظیم کے ساتھ اشتراک کو مزید مضبوط بنانے کے حکومتی عزم کا اظہار کیا۔ ملاقات میں دونوں فریقوں نے خواتین کے بااختیار بنانے اور پاکستان میں صنفی مساوات کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔








