اے آئی جی ای او نیویگیٹرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی سی او) عاصم جاویدنے پاکستان پر زور دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کے تحت پانی کے بہائو پر بھارت کے اقدامات کے خلاف بین الاقوامی سطح پر توجہ برقرار رکھے کیونکہ معاہدہ کی شرائط کی خلاف ورزیاں ایک سنگین تشویش کا معاملہ ہے۔
پاکستان کو سندھ طاس معاہدہ کے حوالہ سے منفی بھارتی کارروائیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا چاہئے، چیف ایگزیکٹو آفیسر اے آئی جی ای او نیویگیٹرز عاصم جاوید

مزید خبریں
اسلام آباد۔20جولائی (اے پی پی):اے آئی جی ای او نیویگیٹرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی سی او) عاصم جاویدنے پاکستان پر زور دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کے تحت پانی کے بہائو پر بھارت کے اقدامات کے خلاف بین الاقوامی سطح پر توجہ برقرار رکھے کیونکہ معاہدہ کی شرائط کی خلاف ورزیاں ایک سنگین تشویش کا معاملہ ہے۔ قومی خبر رساں ادارے ’’اے پی پی‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر ثالثی کی مستقل عدالت کے فیصلے کے بعد سفارتی حمایت حاصل کرنے، اپنی قانونی اور تکنیکی پوزیشن کو وسیع پیمانے پر اجاگر کرنے کا عمل یقینی بنانا چاہئے اور معاہدے کی بھارتی مبینہ خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنا اور اپنا حق ثابت کرنا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پاکستان کے آبی تحفظ کو مضبوط بنانے میں دریائوں کی نگرانی، پانی کی دستیابی کی پیشین گوئی اور شواہد پر مبنی پانی کے انتظام کی حمایت کرتے ہوئے سرحد پار پانی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے حوالہ سے نمایاں تبدیلی کا کردار ادا کر سکتی ہے۔انہوں نے اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے ایک فلو مینیپولیشن ایڈوائزری سسٹم تیار کرنے کی تجویز پیش کی تاکہ خاص طور پر پاکستان میں آبی بہائو کو متاثر کرنے والی اپ سٹریم مداخلتوں کے پیش نظر اہم مقامات پر پانی کی دستیابی کی نگرانی اور جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ترین مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام متعلقہ حکام کو ریئل ٹائم ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کا تجزیہ کرنے، دریا کے بہائو میں اتار چڑھائو کا اندازہ لگانے اور پانی کی تقسیم اور ذخیرہ کرنے کی منصوبہ بندی کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتا ہے۔
سیلابی پانی کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے عاصم جاوید نے کہا کہ پاکستان کو سیلاب کے موسموں میں بالخصوص دریائے چناب، راوی اور ستلج کے کنارے والے علاقوں میں پانی ذخیرہ کرنے کے نظام، زیر زمین پانی کے ریچارج اور اس کی سطح کو برقرار رکھنے والے تالابوں کی تعمیر کے ذریعے اضافی پانی کو استعمال میں لانا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیلاب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے زیادہ تر میدانی علاقوں پر مشتمل ہیں جہاں بڑے آبی ذخائر کی تعمیر ممکن نہیں ہے جس سے پانی کے مرکزی انتظام کے حل کو زیادہ عملی اور موثر بنایا جا سکتا ہے۔
عاصم جاوید نے مزید کہا کہ اے آئی جیو نیویگیٹرز، مصنوعی ذہانت، جیو اے آئی، ریموٹ سینسنگ، جیوگرافک انفارمیشن سسٹمز (جی آئی ایس) اور ہائیڈرولوجیکل ماڈلنگ کو مربوط کرتے ہوئے، پاکستان کی دریا کے بہائو کی نگرانی، اپ سٹریم میں غیرمعمولی تبدیلیوں کا پتہ لگانے، پانی کی قلت یا اچانک اخراج کی پیش گوئی کرنے اور آبی ذخائر کے نظام کو بہتر بنانے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی ٹیکنالوجیز کو اپنانے سے پاکستان کو زیادہ لچکدار اور ڈیٹا پر مبنی واٹر مینجمنٹ فریم ورک بنانے میں مدد ملے گی اور پاکستان ابھرتے ہوئے علاقائی آبی چیلنجوں کا موثر جواب دینے کے قابل ہو گا۔








