وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک سے پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم ڈیلرز کا یومیہ قیمتوں کے نظام کا خیرمقدم، حکومتی اصلاحات کی حمایت کا اعلان

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک سے پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم ڈیلرز کا یومیہ قیمتوں کے نظام کا خیرمقدم، حکومتی اصلاحات کی حمایت کا اعلان

اسلام آباد۔20جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک سےپاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) کے وفد نے چیف ایڈوائزر ملک خدا بخش کی قیادت میں ملاقات کی جس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نظام، ڈی ریگولیشن اور پٹرولیم ڈیلرز سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران پی پی ڈی اے کے وفد نے آبنائے ہرمز کے بحران کے دوران ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے پر حکومت اور وزارت پٹرولیم کی کارکردگی کو سراہا۔ وفد کا کہنا تھا کہ خطے میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان میں ایندھن کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی جو بروقت اور موثر حکومتی اقدامات کا نتیجہ ہے۔

چیف ایڈوائزر ملک خدا بخش نے کہا کہ جہاں کئی ہمسایہ ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت کے باعث امن و امان کی صورتحال متاثر ہوئی وہاں پاکستان نے موثر حکمت عملی کے ذریعے ایندھن کی مسلسل فراہمی برقرار رکھی۔ انہوں نے حکومتی پالیسیوں کی مکمل حمایت کا یقین بھی دلایا۔وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے وفد کو ہفتہ وار کے بجائے یومیہ بنیادوں پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اعلان کے نئے نظام سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نیا نظام بین الاقوامی قیمتوں کی سات روزہ رولنگ اوسط کی بنیاد پر کام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی قیمتوں کا تعین سات روزہ اوسط پر ہوتا تھا تاہم اب قیمتوں کو روزانہ اپ ڈیٹ کیا جائے گا تاکہ شفافیت میں اضافہ ہو، مارکیٹ میں مصنوعی اتار چڑھائو کم ہو اورعالمی قیمتوں کی بہتر عکاسی ممکن بن سکے۔ پی پی ڈی اے نے اس نئے نظام کی حمایت کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیرعلی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت شفافیت کے فروغ اور صارفین کے تحفظ کے لیےمارکیٹ پر مبنی قیمتوں کےنظام کی جانب پیش رفت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقفےوقفے سے قیمتوں کےاعلانات بعض اوقات ذخیرہ اندوزی اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کا سبب بنتے تھےجبکہ سات روزہ رولنگ اوسط پر مبنی یومیہ قیمتوں کا نظام ایسے غیر ضروری رجحانات کی حوصلہ شکنی کرے گا۔وفد نے مطالبہ کیا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور ڈیلرز کے درمیان قواعد و ضوابط اورآپریشنل طریقہ کار وضع کرتے وقت پٹرولیم ڈیلرز سے بھی مشاورت کی جائے۔ اس کے علاوہ وفد نے ڈیلرز کے منافع کے مارجن میں طویل عرصے سے نظرثانی نہ ہونے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے اسے بڑھا کر 8 فیصد کرنے کی درخواست کی۔

وفاقی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ ڈیلرز کی آراء کو پالیسی سازی میں شامل کیا جائے گا اور منافع کے مارجن سمیت دیگر مسائل پر پیش رفت کی جائے گی۔ انہوں نے اس سلسلے میں پی پی ڈی اے کے نمائندوں اور اوگرا کے درمیان کل اجلاس بھی طے کر دیا تاکہ تمام امور پر تفصیلی غور کیا جا سکے۔وفاقی وزیر علی پرویز ملک نےپی پی ڈی اے کی قیادت کا تعمیری تعاون اور حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیاکہ حکومت تمام متعلقہ فریقوں کےساتھ مل کر شفاف، مسابقتی اور صارف دوست پٹرولیم مارکیٹ کے قیام اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے کام جاری رکھے گی۔ وفد میں چیف ایڈوائزر ملک خدا بخش، راجہ وسیم کیانی،چوہدری ظفر الٰہی، بابر علی چوہدری اور چوہدری فیصل عارف شامل تھے۔