وفاقی کمرشل کورٹ کا قیام ملکی معیشت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے، حافظ احسان احمد کھوکھر

سپریم کورٹ کے وکیل اور آئینی و تجارتی قانون کے ماہر حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا ہے کہ وفاقی کمرشل کورٹ کا قیام پاکستان کی معاشی ترقی، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور تجارتی تنازعات کے تیز رفتار و شفاف تصفیے کے لیے بنیادی ضرورت بن چکا ،آئین کے آرٹیکل 212 اے میں ترمیم کے ذریعے اس عدالت کا قیام ملکی معیشت میں ایک اہم سنگ میل ثابت …

اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ کے وکیل اور آئینی و تجارتی قانون کے ماہر حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا ہے کہ وفاقی کمرشل کورٹ کا قیام پاکستان کی معاشی ترقی، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور تجارتی تنازعات کے تیز رفتار و شفاف تصفیے کے لیے بنیادی ضرورت بن چکا ،آئین کے آرٹیکل 212 اے میں ترمیم کے ذریعے اس عدالت کا قیام ملکی معیشت میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

ایک انٹرویو میں حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ کسی بھی ملک کی معاشی مضبوطی کا انحصار صرف قدرتی وسائل یا سرمایہ کاری کی مراعات پر نہیں بلکہ اس کے عدالتی نظام کی کارکردگی، شفافیت اور تجارتی تنازعات کے بروقت حل پر بھی ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان کی زیر صدارت لا اینڈ جسٹس کمیشن پاکستان کے حالیہ اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 212 اے میں ترمیم کے ذریعے وفاقی کمرشل کورٹ کے قیام کی تجویز ایک دور رس اور انقلابی اقدام ہے جس سے پاکستان میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال اور کاروباری ماحول مزید مستحکم ہوگا۔حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ پاکستان اگر خطے میں تجارت اور سرمایہ کاری کا مرکز بننا چاہتا ہے تو اسے جدید تجارتی عدالتی نظام اپنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تجارتی معاہدوں، بینکنگ، مالیاتی معاملات، توانائی منصوبوں، کارپوریٹ تنازعات، ڈیجیٹل تجارت، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق مقدمات کے لیے خصوصی مہارت رکھنے والی عدالت ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک جن میں سنگاپور، برطانیہ، متحدہ عرب امارات اور امریکا شامل ہیں، خصوصی کمرشل عدالتوں کے ذریعے سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں، پاکستان بھی اسی طرز پر وفاقی کمرشل کورٹ قائم کرکے بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے اپنی کشش میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ وفاقی کمرشل کورٹ کو بین الاقوامی تجارتی معاہدوں، غیر ملکی سرمایہ کاری، بینکاری، کارپوریٹ تنازعات، انضمام، توانائی و انفراسٹرکچر منصوبوں، تعمیراتی معاہدوں، انشورنس، دانشورانہ املاک، ڈیجیٹل تجارت، مسابقتی قوانین اور ثالثی سے متعلق مقدمات پر خصوصی اختیار دیا جانا چاہیے۔

حافظ احسان احمد کھوکھر نے زور دیا عدالت میں جدید ڈیجیٹل نظام، الیکٹرانک فائلنگ، آن لائن سماعتوں، محدود التوا اور مقدمات کے فیصلوں کے لیے مقررہ مدت جیسے اقدامات بھی متعارف کرائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی کمرشل کورٹ کے قیام سے معاہدوں پر عمل درآمد بہتر ہوگا، کاروباری لاگت میں کمی آئے گی، برآمدات، صنعت، بینکاری، نجی سرمایہ کاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ ملے گا جبکہ پاکستان کی عالمی سرمایہ کاری و کاروباری درجہ بندی بھی بہتر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی کمرشل کورٹ محض نئی عدالت نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی تبدیلی، قانون کی حکمرانی، تجارتی یقین دہانی اور پائیدار قومی ترقی کے لیے اہم آئینی و ادارہ جاتی ستون ثابت ہو سکتی ہے۔

مزید خبریں