چین نے رینائی ریف میں فلپائن کی جانب سے دانستہ اشتعال انگیزی اور چینی کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں پر حملے کے واقعے پر فلپائن کے سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ سی جی ٹی این کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے محکمہ برائے سرحدی و بحری امور کے عہدیدار نے منگل کو واضح کیا کہ رینائی ریف، چین کے نانشا جزائرکا حصہ ہے اور چین کی …
چین نے رینائی ریف واقعے پر فلپائن کے سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا

مزید خبریں
بیجنگ۔21جولائی (اے پی پی):چین نے رینائی ریف میں فلپائن کی جانب سے دانستہ اشتعال انگیزی اور چینی کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں پر حملے کے واقعے پر فلپائن کے سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ سی جی ٹی این کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے محکمہ برائے سرحدی و بحری امور کے عہدیدار نے منگل کو واضح کیا کہ رینائی ریف، چین کے نانشا جزائرکا حصہ ہے اور چین کی سرزمین ہے۔
چینی کوسٹ گارڈ کا رینائی ریف کے آس پاس کے پانیوں میں قانون نافذ کرنے کا عمل بالکل جائز اور قانونی ہے۔ فلپائن کے غیر قانونی طور پر ’’گراؤنڈ شدہ‘‘ جنگی جہاز سے دو ربڑ کی کشتیاں اتاری گئیں، جنہوں نے خطرناک انداز میں چینی کوسٹ گارڈ کے جہازوں کے قریب آ کر ان سے ٹکرانے کی کوشش کی۔ فلپائنی اہلکاروں نے چینی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو جان بوجھ کر ہراساں کیا اور ان پر حملہ کیا، جس سے چینی اہلکاروں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا۔
چین نے اس عمل کو انتہائی سنگین قرار دیا۔ اشتعال انگیزی کا آغاز فلپائن نے کیا لیکن بعد ازاں اسی نے حقائق کو مسخ کرتے ہوئے چین پر الزامات عائد کیے اور معاملے کو دانستہ طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ چین نے اس پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ چینی عہدیدار نے کہا کہ چین نے فلپائن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اشتعال انگیز اقدامات اور کشیدگی پیدا کرنے والی سرگرمیاں بند کرے اور اس معاملے پر بے بنیاد میڈیا تشہیر سے گریز کرے۔ انہوں نے کہا کہ چین اپنی علاقائی خودمختاری اور سمندری حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرتا رہے گا۔








