وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے چینی سرمایہ کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کی بندرگاہوں، لاجسٹکس اور بحری شعبے میں سرمایہ کاری بڑھائیں کیونکہ حکومت پاکستان ملک کو علاقائی ٹرانزٹ ٹریڈ، لاجسٹکس اور صنعتی مرکز بنانے کے لیے جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔
چینی سرمایہ کار پاکستان کی بندرگاہوں، لاجسٹکس اور بحری شعبے میں سرمایہ کاری بڑھائیں، وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے چینی سرمایہ کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کی بندرگاہوں، لاجسٹکس اور بحری شعبے میں سرمایہ کاری بڑھائیں کیونکہ حکومت پاکستان ملک کو علاقائی ٹرانزٹ ٹریڈ، لاجسٹکس اور صنعتی مرکز بنانے کے لیے جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔
وزارت سے جاری پریس ریلیز کے مطابق منگل کو بیجنگ میں ریجنل ٹرانزٹ ٹریڈ ہب انیشی ایٹو سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں رابطہ سازی، تجارتی سہولت کاری، لاجسٹکس، صنعتی ترقی اور پائیدار اقتصادی نمو کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، جہاں ڈیجیٹلائزیشن، سمارٹ لاجسٹکس، مضبوط سپلائی چینز، گرین شپنگ اور ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ مستقبل کی تجارت کا رخ متعین کر رہے ہیں،ان چیلنجز سے نمٹنے اور نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے علاقائی تعاون اور جدید حکمت عملی ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع اسے علاقائی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے قدرتی گیٹ وے بناتا ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اتھارٹی، گوادر پورٹ اتھارٹی اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن سمیت ملکی بحری ادارے پاکستان کو جدید میری ٹائم، لاجسٹکس اور صنعتی مرکز بنانے کے وژن پر عمل کر رہے ہیں، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورا خطہ مستفید ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ریجنل ٹرانزٹ ٹریڈ ہب کا تصور پاکستان کی قومی اقتصادی ترجیحات سے مکمل مطابقت رکھتا ہے اور اس کے تحت بندرگاہوں کی جدیدکاری، ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ کوریڈورز، لاجسٹکس پارکس، صنعتی انفراسٹرکچر، بحری خدمات، ڈیجیٹل تجارتی سہولت کاری اور ویلیو ایڈڈ لاجسٹکس پلیٹ فارمز میں مشترکہ سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا فلیگ شپ منصوبہ گوادر پورٹ بندرگاہی آپریشنز، لاجسٹکس، ویئر ہاؤسنگ، فری زون ڈویلپمنٹ اور بحری صنعتوں میں سرمایہ کاری کے غیر معمولی امکانات فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے چینی کمپنیوں کو ان منصوبوں میں بھرپور شرکت کی دعوت دیتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو شفاف، سازگار اور کاروبار دوست ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ دونوں ممالک کے لیے طویل المدتی اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کو فروغ دیا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے اس موقع پر جیانگ ٹون لینڈ انٹرنیشنل ہولڈنگز کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے علاقائی روابط اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے حکومتی اور کاروباری رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور چین کی غیر معمولی دوستی کو مزید مستحکم کرتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کے فروغ کے ذریعے دونوں ممالک کے عوام کے لیے ایک زیادہ مربوط، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی بنیاد رکھی جائے گی۔








