بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، جنوبی پنجاب کی معیشت، خوراک اور روزگار کو سنگین خطرات

جنوبی پنجاب کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے جبکہ زراعت کا دارومدار آبی وسائل اور نہری نظام پر ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور پانی کی دستیابی سے جڑے خدشات صرف زرعی شعبے تک محدود نہیں بلکہ ان کے اثرات دیہی معیشت، خوراک کے تحفظ، روزگار، توانائی اور بے شمار خاندانوں کے معاشی مستقبل پر بھی …

ملتان۔ 21 جولائی (اے پی پی):جنوبی پنجاب کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے جبکہ زراعت کا دارومدار آبی وسائل اور نہری نظام پر ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور پانی کی دستیابی سے جڑے خدشات صرف زرعی شعبے تک محدود نہیں بلکہ ان کے اثرات دیہی معیشت، خوراک کے تحفظ، روزگار، توانائی اور بے شمار خاندانوں کے معاشی مستقبل پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق جنوبی پنجاب میں کپاس، گندم، چاول، گنا، آم اور دیگر اہم فصلوں کی پیداوار نہری نظام پر منحصر ہے۔ اگر آبپاشی کے لیے پانی کی دستیابی متاثر ہوتی ہے تو زرعی پیداوار میں کمی، پیداواری لاگت میں اضافہ، برآمدات میں کمی اور دیہی غربت میں اضافے جیسے چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔

انجینئر عمر حیات نے ’’اے پی پی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو پانی کے ہر قطرے کی حفاظت کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے آبی حقوق کی ضمانت ہے اور اس کی روح کے مطابق اس پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو اپنے آبی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اور سفارتی ذرائع بروئے کار لانے چاہئیں۔یونیورسٹی آف لیہ کے شعبہ زراعت کے پروفیسر ڈاکٹر یاسر نے کہا کہ جنوبی پنجاب پاکستان کا زرعی مرکز ہے، جہاں لاکھوں افراد کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے، اگر آبپاشی کے لیے پانی کم ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف فصلوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ زرعی مزدوروں، فوڈ پروسیسنگ، کاٹن جننگ، شوگر انڈسٹری، ٹرانسپورٹ اور زرعی تجارت پر بھی مرتب ہوں گے۔

ماہر ماحولیات ڈاکٹر عابد منصور نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پانی کے وسائل پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں، اس لیے دریاؤں سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں پر مکمل عملدرآمد پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کا مسئلہ صرف سیاسی نہیں بلکہ انسانی، معاشی اور ماحولیاتی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ماہر معاشیات عدیل چوہدری نے کہا کہ پانی کی قلت کا براہِ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔ ان کے مطابق زرعی پیداوار میں کمی سے غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ، برآمدات میں کمی اور دیہی علاقوں میں بے روزگاری بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، اس لیے آبی وسائل کا مؤثر انتظام معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

زرعی ماہر پروفیسر شبیر احمد نے ’’اے پی پی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لاکھوں کسانوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاہدے کی روح کے مطابق پانی کی دستیابی متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف زراعت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خوراک، روزگار، ماحول اور دیہی معیشت بھی متاثر ہوگی۔زرعی ماہر امجد علی نے کہا کہ جنوبی پنجاب کا نہری نظام خطے کی زرعی پیداوار میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی کمی کسانوں اور زرعی شعبے کے لیے شدید مشکلات پیدا کر سکتی ہے، اس لیے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے آبی حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے۔

جنوبی پنجاب کے مقامی زمینداروں نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پانی کی قلت میں اضافہ ہوا تو اس کے اثرات صرف فصلوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا دیہی معاشی نظام متاثر ہوگا اور کسانوں کے لیے معاشی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔ماہرین کا متفقہ مؤقف ہے کہ سندھ طاس معاہدہ صرف پانی کی تقسیم کا معاہدہ نہیں بلکہ پاکستان کے قومی مفادات، زرعی معیشت اور آبی سلامتی سے جڑا ایک اہم بین الاقوامی معاہدہ ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ معاہدے کی شقوں اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان کو اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے سفارتی، قانونی اور تکنیکی سطح پر مؤثر اقدامات جاری رکھنے چاہییں، جبکہ بھارت کو بھی ایسے تمام اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو معاہدے کی روح، باہمی اعتماد اور خطے کے آبی استحکام کو متاثر کریں۔

مزید خبریں